(۱۴۲۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ قَالَ یَحْیَی بْنُ عَبَّادٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ بُدَیْلِ بْنِ مَیْسَرَۃَ عَنْ أَبِی الْوَضِیئِ : أَنَّ أَخَوَیْنِ تَزَوَّجَا أُخْتَیْنِ فَأُہْدِیَتْ کُلُّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا إِلَی أَخِی زَوْجِہَا فَأَصَابَہَا۔ فَقَضَی عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا بِصَدَاقٍ وَجَعَلَہُ یَرْجِعُ بِہِ عَلَی الَّذِی غَرَّہُ۔ [حسن]
(١٤٢٥٣) ابو الوضی فرماتے ہیں کہ دو بھائیوں کی شادی دو بہنوں سے ہوگئی تو ان دونوں عورتوں کو تحفے بھی ملے، دونوں بھائیوں کی جانب سے اور ان سے مجامعت بھی کی تو حضرت علی (رض) نے ان میں سے ہر ایک کے ذمہ حق مہر ڈال دیا اور کہا : دھوکا دینے والا شخص یہ ادا کرے گا۔