(۱۴۲۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ أَنَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ عُمَرَ أَوْ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَضَی أَحَدُہُمَا فِی أَمَۃٍ غَرَّتْ بِنَفْسِہَا رَجُلاً فَذَکَرَتْ أَنَّہَا حُرَّۃٌ فَوَلَدَتْ أَوْلاَدًا فَقَضَی أَنْ یُفْدَی وَلَدُہُ بِمِثْلِہِمْ۔ قَالَ مَالِکٌ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَذَلِکَ یَرْجِعُ إِلَی الْقِیمَۃِ لأَنَّ الْعَبْدَ لاَ یُؤْتَی بِمِثْلِہِ وَلاَ نَحْوِہِ فَلِذَلِکَ یَرْجِعُ إِلَی الْقِیمَۃِ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَمَنْ قَالَ لاَ یُرْجَعُ بِالْمَہْرِ وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِیِّ فِی الْجَدِیدِ احْتَجَّ بِمَا رُوِّینَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ نُکِحَتْ بِغَیْرِ إِذْنِ وَلِیِّہَا فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ فَإِنْ أَصَابَہَا فَلَہَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِہَا ۔ (ش) قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَإِذَا جَعَلَ لَہَا الصَّدَاقَ بِالْمَسِیسِ فِی النِّکَاحِ الْفَاسِدِ بِکُلِّ حَالٍ وَلَمْ یَرُدَّہُ بِہِ عَلَیْہَا وَہِیَ الَّتِی غَرَّتْہُ لاَ غَیْرُہَا کَانَ فِی النِّکَاحِ الصَّحِیحِ الَّذِی لِلزَّوْجِ فِیہِ الْخِیَارُ أَوْلَی أَنْ یَکُونَ لِلْمَرْأَۃِ وَإِذَا کَانَ لِلْمَرْأَۃِ لَمْ یَجُزْ أَنْ تَکُونَ ہِیَ الآخِذَۃَ لَہُ وَیَغْرَمُہُ وَلِیُّہَا قَالَ وَقَضَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الَّتِی نُکِحَتْ فِی عِدَّتِہَا إِنْ أُصِیبَتْ فَلَہَا الْمَہْرُ۔
قَالَ الشَّیْخُ : قَدْ کَانَ یَقُولُ ہُوَ فِی بَیْتِ الْمَالِ ثُمَّ رَجَعَ عَنْ ذَلِکَ قَالَ مَسْرُوقٌ : رَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ قَوْلِہِ فِی الصَّدَاقِ وَجَعَلَہُ لَہَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِہَا۔ [ضعیف]
(١٤٢٥٤) امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) یا حضرت عثمان (رض) نے فیصلہ ایسی لونڈی کے بارے میں فرمایا جس نے کسی کو دھوکا دیا کہ وہ آزاد ہے اور اس کی اولاد بھی ہوگئی کہ اس کے مثل بچے فدیہ دیے جائیں، امام مالک (رح) فرماتے ہیں : قیمت ادا کی جائے؛ کیونکہ غلام اس جیسا یا اس کی مثل ادا نہیں کیا سکتا۔ اس لیے قیمت ہی ادا کی جائے گی۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں : جس نے کہا کہ حق مہر واپس نہ کیا جائے گا، یہ امام شافعی کا جوید قول ہے۔
(ب) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : جو عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے، اگر اس سے مجامعت کرلی تو اس کے عوض حق مہر ادا کرنا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے : جب نکاح فاسد میں مجامعت کی وجہ سے حق مہر ہے، جو اس کو واپس نہ کیا جائے گا، یہ اس عورت کے ذمہ ہے جس نے اس کو دھوکا دیا، اس کے علاوہ کسی دوسرے کے ذمہ نہ ہوگا۔ حالانکہ نکاح صحیح میں خاوند کو اختیار ہوتا ہے کہ یہ حق مہر عورت کے لیے ہے تو اس سے لینا درست نہیں، لیکن چٹی ولی پر ڈالی جائے گی اور حضرت عمر (رض) نے فیصلہ فرمایا کہ جس عورت سے عدت کے اندر صحبت کی گئی اس کے لیے حق مہر ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : وہ حق مہر بیت المال میں جمع کروا دیں، بعد میں اس سے رجوع کرلیا، مسروق کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے صداق والے قول سے رجوع فرما لیا تھا؛ کیونکہ یہ اس کی شرمگاہ کو حلال سمجھنے کے عوض تھا جو عورت کو مل گیا۔