(۱۴۲۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِیَ بَرِیرَۃَ فَتُعْتِقَہَا وَأَرَادَ مَوَالِیہَا أَنْ یَشْتَرِطُوا الْوَلاَئَ فَذَکَرَتْ عَائِشَۃُ ذَاکَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اشْتَرِیہَا وَأَعْتِقِیہَا فَإِنَّ الْوَلاَئَ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔ قَالَتْ : وَأُتِیَ بِلَحْمٍ فَقَالَ : مَا ہَذَا؟ ۔ فَقَالُوا : ہَذَا أَہْدَتْہُ إِلَیْنَا بَرِیرَۃُ تُصُدِّقَ بِہِ عَلَیْہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہُوَ عَلَیْہَا صَدَقَۃٌ وَلَنَا ہَدِیَّۃٌ ۔ قَالَ : وَخُیِّرَتْ وَکَانَ زَوْجُہَا حُرًّا۔ قَالَ شُعْبَۃُ ثُمَّ سَأَلْتُہُ بَعْدُ فَقَالَ : مَا أَدْرِی أَحُرٌّ ہُوَ أَمْ عَبْدٌ۔ قَالَ شُعْبَۃُ فَقُلْتُ لِسِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ : إِنِّی أَتَّقِی أَنْ أَسْأَلَہُ عَنِ الإِسْنَادِ فَسَلْہُ أَنْتَ قَالَ : وَکَانَ فِی خُلُقِہِ فَقَالَ لَہُ سِمَاکٌ بَعْدَ مَا حَدَّثَ : أَحَدَّثَکَ ہَذَا أَبُوکَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : نَعَمْ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ لِی سِمَاکٌ : یَا شُعْبَۃُ اسْتَوْثَقْتُہُ لَکَ مِنْہُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ النَّوْفَلِیِّ عَنْ أَبِی دَاوُدَ وَأَخْرَجَہُ ہُوَ وَالْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ وَلَمْ یَذْکُرَا قَوْلَ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ وَقَدْ رَوَاہُ سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ فَأَثْبَتَ عَنْہُ کَوْنَ زَوْجِہَا عَبْدًا۔ [صحیح۔ دون قولہ]
(١٤٢٥٥) عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے بریرہ کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا، لیکن اس کے مالکوں نے ولاء کی شرط لگا دی، حضرت عائشہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تذکرہ کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خرید کر آزاد کرو کیونکہ ولاء آزاد کرنے والے کی ہوئی ہے، فرماتی ہیں : بریرہ کو گوشت دیا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ تو انھوں نے کہا کہ یہ گوشت بریرہ پر صدقہ کیا گیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ ہے، کہتے ہیں : بریرہ کو اختیار دیا گیا اور ان کا خاوند آزاد تھا، شعبہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے ان سے سوال کیا تو فرمانے لگے : میں نہیں جانتا کہ وہ آزاد تھے یا غلام ؟ شعبہ کہتے ہیں : میں نے سماک بن حرب سے کہا : میں سند کے بارے میں سوال کرنے سے بچتا ہوں، آپ سوال کریں تو سماک نے پوچھا کہ کیا آپ کے والد نے حضرت عائشہ (رض) سے بیان کیا تو کہنے لگے : ہاں، شعبہ کہتے ہیں : جب سماک جانے لگے تو فرمایا کہ میں نے توثیق بیان کردی ہے۔
(ب) سماک بن حرب حضرت عبدالرحمن بن قاسم سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا خاوند غلام ہی تھا۔