(۱۴۲۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ کِلاَہُمَا عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی الأَمَۃِ تَکُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ فَتَعْتِقُ : إِنَّ لَہَا الْخِیَارَ مَا لَمْ یَمَسَّہَا۔
زَادَ مَالِکٌ فِی رِوَایَتِہِ فَإِنْ مَسَّہَا فَلاَ خِیَارَ لَہَا۔ [حسن]
(١٤٢٨٥) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : جو لونڈی غلام کے نکاح میں ہو اس کو آزادی مل جائے تو خاوند کے مجامعت کرنے سے پہلے اس کو اپنے نفس کا اختیار ہوتا ہے۔
(ب) مالک کی روایت میں زیادتی ہے کہ اگر خاوند نے مجامعت کرلی تو پھر کوئی اختیار نہیں ہے۔