(۱۴۲۸۶) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ : أَنَّ مَوْلاَۃَ لِبَنِی عَدِیِّ بْنِ کَعْبٍ یُقَالُ لَہَا زَبْرَائُ أَخْبَرَتْہُ أَنَّہَا کَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ وَہِیَ أَمَۃٌ نُوبِیَّۃٌ فَأُعْتِقَتْ قَالَ فَأَرْسَلَتْ إِلَیَّ حَفْصَۃُ زَوْجُ النَّبِیِّ -ﷺ- فَدعَتْنِی فَقَالَتْ : إِنِّی مُخْبِرَتُکِ خَبَرًا وَلاَ أُحِبُّ أَنْ تَصْنَعِی شَیْئًا إِنَّ أَمْرَکِ بِیَدِکِ مَا لَمْ یَمَسَّکِ زَوْجُکِ۔ قَالَتْ : فَفَارَقْتُہُ ثَلاَثًا۔
لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ بُکَیْرٍ وَیُذْکَرُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِذَا جَامَعَہَا فَلاَ خِیَارَ لَہَا۔ [صحیح]
(١٤٢٨٦) عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ بنو عدی بن کعب کی لونڈی جس کو زبراء کہا جاتا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ ایک غلام کے نکاح میں تھی، اس کو آزادی مل گئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی حضرت حفصہ نے مجھے اس کو بلانے کے لیے بھیجا اور فرمایا : میں تجھے بتانے لگی ہوں اور مجھے پسند نہیں کہ آپ کچھ بھی کریں، تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں رہے گا جب تک تیرے خاوند نے تجھ سے مجامعت نہ کرلی۔ کہتی ہیں : میں اس سے تین دن جدا رہی۔
(ب) ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : جب اس نے مجامعت کرلی تو پھر لونڈی کو اختیار نہ رہے گا۔