(۱۴۳۶۷) فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَوْلُہُ : نَوَاۃٍ یَعْنِی خَمْسَۃَ دَرَاہِمَ قَالَ وَخَمْسَۃُ دَرَاہِمَ تُسَمَّی نَوَاۃَ ذَہَبٍ کَمَا تُسَمَّی الأَرْبَعُونَ أُوقِیَّۃً وَکَمَا تُسَمَّی الْعِشْرُونَ نَشًّا قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنِیہِ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ الأُوقِیَّۃُ : أَرْبَعُونَ وَالنَّشُّ عِشْرُونَ وَالنَّوَاۃُ خَمْسَۃٌ۔ [ضعیف]
(١٤٣٦٧) ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ ” نواۃ “ یعنی پانچ درہم، پانچ درہموں کو نواۃ من ذہب “ سے تعبیر کردیا، جیسے ٤٠ کو اوقیہ کہہ دیتے ہیں اور ٢٠ کا نام نش رکھ دیتے ہیں۔ مجاہد کہتے ہیں کہ ٤٠ اوقیہ کو نش کہتے ہیں اور نواۃ پانچ کو کہتے ہیں۔