(۱۴۳۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَیُّوبَ بْنِ مُوسَی عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قُسَیْطٍ قَالَ : بُشِّرَ رَجُلٌ بِجَارِیَۃٍ فَقَالَ رَجُلٌ : ہِبْہَا لِی فَذُکِرَ ذَلِکَ لِسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ فَقَالَ : لَمْ تَحِلَّ الْمَوْہُوبَۃُ لأَحَدٍ بَعْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَلَوْ أَصْدَقَہَا سَوْطًا فَمَا فَوْقَہُ جَازَ۔ وَقَالَ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ وَلَوْ أَصْدَقَہَا سَوْطًا حَلَّتْ لَہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ الشافی فی الام ۵/۶۰]
(١٤٣٩٣) عبداللہ بن قسیط کہتے ہیں کہ ایک شخص کو لونڈی کی خوشخبری دی گئی تو مرد نے کہا کہ اپنا نفس میرے لیے ہبہ کر دو ۔ اس کا تذکرہ حضرت سعید بن مسیب کے سامنے ہوا، فرمانے لگے : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کسی لیے اپنا نفس ہبہ کرنا درست نہیں ہے۔ اگر مرد عورت کو کوڑا یا اس سے بھی کم حق مہر دے دے تو جائز ہے، دوسری جگہ پر ہے کہ اگر ایک کوڑا حق مہر دے دے تو اس کے لیے حلال ہے۔