(۱۴۴۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَیْسَرَۃَ الْقَوَارِیرِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَزِیدَ أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَّائُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ الأَخْنَسِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مَرُّوا بِحَیٍّ مِنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ وَفِیہِمْ لَدِیغٌ أَوْ سَلِیمٌ فَقَالُوا: ہَلْ فِیکُمْ مِنْ رَاقٍ فَإِنَّ فِی الْمَائِ لَدِیغًا أَوْ سَلِیمًا فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْہُمْ فَرَقَاہُ عَلَی شَائٍ فَبَرَأَ فَلَمَّا أَتَی أَصْحَابَہُ کَرِہُوا ذَاکَ وَقَالُوا : أَخَذْتَ عَلَی کِتَابِ اللَّہِ أَجْرًا فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأُخْبِرَ بِذَلِکَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الرَّجُلَ فَسَأَلَہُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا مَرَرْنَا بِحَیٍّ مِنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ وَفِیہِمْ لَدِیغٌ أَوْ سَلِیمٌ فَقَالُوا : ہَلْ فِیکُمْ مِنْ رَاقٍ فَرَقَیْتُہُ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ فَبَرِأَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا کِتَابُ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سِیدَانَ بْنِ مُضَارِبٍ عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ وَتَمَامُ ہَذَا الْبَابِ وَمَا رُوِیَ فِی مُعَارَضَتِہِ قَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الإِجَارَۃِ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۷۳۷]
(١٤٤٠٤) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ صحابہ کا ایک گروہ عرب کے کسی قبیلہ کے پاس سے گزرا۔ ان میں سے ایک شخص ڈسا ہوا تھا تو انھوں نے پوچھا : کیا تمہارے اندر کوئی دم کرنے والا ہے جو ڈسے ہوئے کو دم کر دے ؟ تو ایک شخص نے بکریوں کے عوض دم کردیا، وہ ڈسا ہوا درست ہوگیا۔ جب وہ بکریاں لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا تو انھوں نے ناپسند کیا، انھوں نے کہا : تو کتاب اللہ پر اجرت لیتا ہے ؟ پھر واپس آکر انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم عرب کے قبائل میں سے کسی کے پاس سے گزر رہے تھے ان میں ایک شخص کو کسی چیز نے ڈس لیا تھا تو انھوں نے پوچھا : تم میں کوئی دم کرنے والا ہے ؟ تو میں نے سورة فاتحہ پڑھ کر دم کردیا وہ صحت مند ہوگیا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی کتاب زیادہ حق رکھتی ہے کہ اس کی تعلیم پر اجرت لی جائے۔