(۱۴۴۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی ہَذِہِ الآیَۃِ قَالَ : ہُوَ الرَّجُلُ یَتَزَوَّجُ الْمَرْأَۃَ وَلَمْ یُسَمِّ لَہَا صَدَاقًا ثُمَّ طَلَّقَہَا مِنْ قَبْلِ أَنْ یَنْکِحَہَا فَأَمَرَ اللَّہُ تَعَالَی أَنْ یُمَتِّعَہَا عَلَی قَدْرِ یُسْرِہِ وَعُسْرِہِ فَإِنْ کَانَ مُوسِرًا مَتَّعَہَا بِخَادِمٍ أَوْ نَحْوِ ذَلِکَ وَإِنْ کَانَ مُعْسِرًا فَبِثَلاَثَۃِ أَثْوَابٍ أَوْ نَحْوِ ذَلِکَ۔ [ضعیف]
(١٤٤٠٥) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ شخص جو حق مہر مقرر کیے بغیر شادی کرتا ہے، پھر مجامعت سے پہلے طلاق دے دیتا ہے تو اللہ نے اس کی تنگی اور آسانی کے مطابق فائدہ دینے کا حکم فرمایا ہے۔ اگر مالدار ہے تو خادم یا اس کے برابر فائدہ دے۔ اگر تنگدست ہے تو پھر تین کپڑے یا اس کے برابر دے۔