hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 14422

.

سنن البيهقي

14422
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۴۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الشَّیْبَانِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ الْخَلِیلِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ قَیْسٍ : أَنَّ قَوْمًا أَتَوْا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالُوا لَہُ : إِنَّ رَجُلاً مِنَّا تَزَوَّجَ امْرَأَۃً وَلَمْ یَفْرِضْ لَہَا صَدَاقًا وَلَمْ یَجْمَعْہَا إِلَیْہِ حَتَّی مَاتَ فَقَالَ لَہُمْ عَبْدُ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَا سُئِلْتُ عَنْ شَیْئٍ مُنْذُ فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَشَدَّ عَلَیَّ مِنْ ہَذِہِ فَأْتُوا غَیْرِی قَالَ : فَاخْتَلَفُوا إِلَیْہِ فِیہَا شَہْرًا ثُمَّ قَالُوا لَہُ فِی آخِرِ ذَلِکَ : مَنْ نَسْأَلُ إِذَا لَمْ نَسْأَلْکَ وَأَنْتَ أَخِیَّۃُ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ -ﷺ- فِی ہَذَا الْبَلَدِ وَلاَ نَجِدُ غَیْرَکَ۔ فَقَالَ سَأَقُولُ فِیہَا بِجَہْدِ رَأْیِی فَإِنْ کَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللَّہِ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ وَإِنْ کَانَ خَطَأً فَمِنِّی وَاللَّہُ وَرَسُولُہُ مِنْہُ بَرِیئٌ: أَرَی أَنْ أَجْعَلَ لَہَا صَدَاقًا کَصَدَاقِ نِسَائِہَا لاَ وَکْسَ وَلاَ شَطَطَ وَلَہَا الْمِیرَاثُ وَعَلَیْہَا الْعِدَّۃُ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا قَالَ وَذَلِکَ بِسَمْعِ نَاسٍ مِنْ أَشْجَعَ فَقَامُوا فَقَالُوا : نَشْہَدُ أَنَّکَ قَضَیْتَ بِمِثْلِ الَّذِی قَضَی بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی امْرَأَۃٍ مِنَّا یُقَالُ لَہَا بَرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ قَالَ : فَمَا رُئِیَ عَبْدُ اللَّہِ فَرِحَ بِشَیْئٍ مَا فَرِحَ یَوْمَئِذٍ إِلاَّ بِإِسْلاَمِہِ ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ صَوَابًا فَمِنْکَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ وَإِنْ کَانَ خَطَأً فَمِنِّی وَمِنَ الشَّیْطَانِ وَاللَّہُ وَرَسُولُہُ مِنْہُ بَرِیء ٌ۔ وَرَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ فِیہِ : فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الأَشْجَعِیُّ۔ وَرَوَاہُ ابْنُ عَوْنٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ فِیہِ فَقَالَ الأَشْجَعِیُّ۔ [صحیح]
(١٤٤١٦) علقمہ بن قیس فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس آئے اور ان سے کہنے لگے : ہمارے ایک فرد نے شادی کی، لیکن بیوی سے دخول نہ کرسکا اور حق مہر بھی مقرر نہ کیا، فوت ہوگیا تو حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرمانے لگے : اتنا مشکل سوال مجھے نہ ہوا تھا جب سے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جدا ہوا۔ تم کسی اور کے پاس جاؤ۔ انھوں نے ایک مہینہ تک آپس میں اختلاف کیا اور آخر کار حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے کہنے لگے : اگر آپ سے سوال نہ کریں تو کس سے کریں اس شہر میں صرف آپ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی ہیں کوئی اور نہیں ہے، تو فرمانے لگے : پھر میں اپنی رائے سے کہہ دیتا ہوں اگر درست ہوا تو اللہ کی جانب سے اگر غلط ہوا تو میری جانب سے۔ اللہ اور اس کے رسول اس سے بری الذمہ ہیں۔ اس عورت کے ذمہ ٤ مہینہ دس دن عدت ہے تو اشجع کے لوگ بھی اس فیصلہ کو سن رہے تھے تو انھوں نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ کے فیصلہ کی مانند رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری ایک عورت بروع بنت واثق کے بارے میں فیصلہ دیا تھا تو حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے اتنی بڑی خوشی نہ دیکھی تھی سوائے اپنے اسلام لانے کی، پھر کہا : اے اللہ ! اگر یہ درست ہے تو تیرے اکیلے کی جانب سے ہے، اگر غلط ہے تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے، اللہ اور اس کے رسول اس سے بری الذمہ ہیں۔