(۱۴۴۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَۃَ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ وَأُمُّہَا ابْنَۃُ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ کَانَتْ تَحْتَ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ فَمَاتَ وَلَمْ یَدْخُلْ بِہَا وَلَمْ یُسَمِّ لَہَا صَدَاقًا فَابْتَغَتْ أُمُّہَا صَدَاقَہَا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَیْسَ لَہَا صَدَاقٌ وَلَوْ کَانَ لَہَا صَدَاقٌ لَمْ نَمْنَعْکُمُوہُ وَلَمْ نَظْلِمْہَا فَأَبَتْ أَنْ تَقْبَلَ ذَلِکَ فَجَعَلُوا بَیْنَہُمْ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَضَی أَنْ لاَ صَدَاقَ لَہَا وَلَہَا الْمِیرَاثُ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۱۱۲۰]
(١٤٤١٨) نافع فرماتے ہیں کہ عبیداللہ بن عمر کی بیٹی اور اس کی والدہ زید بن خطاب کی بیٹی جو ابن عبداللہ بن عمر (رض) کے نکاح میں تھی، وہ فوت ہوگئے بغیر دخول کیے اور حق مہر مقرر کرنے سے پہلے ہی تو اس کی والدہ نے حق مہر کا تقاضا کیا، تو ابن عمرو (رض) فرمانے لگے : کوئی حق مہر نہیں ہے، اگر اس کا حق مہر ہوا تو ہم منع بھی نہ کریں گے اور ظلم بھی نہیں کرتے تو اس نے اس بات کو قبول کرنے سے انکار کردیا تو انھوں نے فیصل حضرت زید بن ثابت (رض) کو بنا لیا تو انھوں نے میراث کا فیصلہ دیا لیکن حق مہر نہ ہوگا۔