(۱۴۴۱۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا زَوَّجَ ابْنًا لَہُ ابْنَۃَ أَخِیہِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ وَابْنُہُ صَغِیرٌ یَوْمَئِذٍ وَلَمْ یَفْرِضْ لَہَا صَدَاقًا فَمَکَثَ الْغُلاَمُ مَا مَکَثَ ثُمَّ مَاتَ فَخَاصَمَ خَالُ الْجَارِیَۃَ ابْنَ عُمَرَ إِلَی زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لِزَیْدٍ : إِنِّی زَوَّجْتُ ابْنِی وَأَنَا أُحْدِّثُ نَفْسِی أَنْ أَصْنَعَ بِہِ خَیْرًا فَمَاتَ قَبْلَ ذَلِکَ وَلَمْ یَفْرِضْ لِلْجَارِیَۃِ صَدَاقًا فَقَالَ زَیْدٌ : فَلَہَا الْمِیرَاثُ إِنْ کَانَ لِلْغُلاَمِ مَالٌ وَعَلَیْہَا الْعِدَّۃُ وَلاَ صَدَاقَ لَہَا۔ [صحیح۔ اخرجہ سعید بن منصور ۹۲۵]
(١٤٤١٩) سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنے بیٹے کی شادی اپنے بھائی کی بیٹی سے کردی، اور اس وقت ان کا بیٹا چھوٹا تھا، حق مہر نہ ہوا۔ لیکن کچھ زندگی کے بعد بچہ فوت ہوگیا، تو بچی کی خالہ نے جھگڑا زید بن ثابت کے سامنے رکھا۔ تو ابن عمر (رض) فرمانے لگے کہ میں نے اپنے بیٹے کی شادی کی اور بھلائی کا ارادہ تھا، لیکن وہ پہلے ہی فوت ہوگیا۔ بچی کے لیے حق مہر مقرر نہ تھا تو زید فرمانے لگے : بچی کو وراثت ملے گی اگر بچے کا مال تھا اور بچی عدت گزارے گی، لیکن حق مہر نہ ملے گا۔