(۱۴۴۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْہَرَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مُغِیرَۃَ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَّا امْرَأَۃً فَطَلَّقَہَا زَوْجُہَا قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا فَعَفَا أَخُوہَا عَنْ صَدَاقِہَا فَارْتَفَعُوا إِلَی شُرَیْحٍ فَأَجَازَ عَفْوَہُ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ : أَنَا أَعْفُو عَنْ صَدَاقِ بِنْتِی مَرَّۃً فَکَانَ یَقُولُ بَعْدُ : الَّذِی بِیَدِہِ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ الزَّوْجُ أَنْ یَعْفُوَ عَنِ الصَّدَاقِ کُلِّہِ فَیُسَلِّمَہُ إِلَیْہَا أَوْ تَعْفُوَ ہِیَ عَنِ النِّصْفِ الَّذِی فَرَضَ اللَّہُ لَہَا وَإِنْ تَشَاحَّا فَلَہَا نِصْفُ الصَّدَاقِ۔ [صحیح]
(١٤٤٥١) مغیرہ شعبی سے نقل فرماتے ہیں کہ ہمارے ایک شخص نے کسی عورت سے شادی کی اور دخول سے پہلے ہی طلاق دے دی تو اس عورت کے بھائی نے حق مہر معاف کردیا، معاملہ قاضی شریح کے پاس گیا تو انھوں نے حق مہر معاف کرنے کو درست قرار دیا، پھر کہنے لگے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی بیٹی کا حق مہر معاف کردیا، اس کے بعد فرمانے لگے : جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے وہ خاوند ہے کہ وہ مکمل حق مہر بیوی کے سپرد کر دے یا عورت اپنا نصف حق مہر معاف کر دے جو اللہ نے اس کے لیے فرض کیا ہے، اگر وہ جھگڑا کریں تو عورت کو نصف حق مہر ملے گا۔