(۱۴۴۵۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ طَاوُسٍ وَعَطَائٍ وَأَہْلِ الْمَدِینَۃِ أَنَّہُمْ قَالُوا : الَّذِی بِیَدِہِ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ ہُوَ الْوَلِیُّ فَأَخْبَرْتُہُمْ بِقَوْلِ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ : ہُوَ الزَّوْجُ فَرَجَعُوا عَنْ قَوْلِہِمْ۔ فَلَمَّا قَدِمَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ قَالَ : أَرَأَیْتُمْ إِنْ عَفَا الْوَلِیُّ وَأَبَتِ الْمَرْأَۃُ مَا یُغْنِی عَفْوُ الْوَلِیِّ أَوْ عَفَتْ ہِیَ وَأَبِی الْوَلِیُّ مَا لِلْوَلِیِّ مِنْ ذَلِکَ۔ [حسن]
(١٤٤٥٣) ابو بشر طاؤس، عطاء اور اہل مدینہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے، وہ ولی ہے۔ کہتے ہیں : میں نے ان کو سعید بن جبیر کے قول کی خبر دی کہ وہ خاوند ہے تو انھوں نے اپنے قول سے رجوع کرلیا۔ جب سعید بن جبیر آئے تو انھوں نے پوچھا : آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر ولی حق مہر معاف کر دے اور عورت انکار کر دے تو ولی کا معاف کرنا کچھ کفایت کرے گا یا عورت معاف کرے اور ولی انکار کر دے تو ولی کا کوئی تعلق ہے ؟