(۱۴۴۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَہْلِ بْنِ بَحْرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعِیدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالَ وَجَدْتُ فِی کِتَابِی عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : تَزَوَّجَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِسِتِّ سِنِینَ وَبَنَی بِی وَأَنَا ابْنَۃُ تِسْعِ سِنِینَ قَالَتْ فَقَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَوُعِکْتُ شَہْرًا فَوَفَی شَعْرِی جُمَیْمَۃً فَأَتَتْنِی أُمُّ رُومَانَ وَأَنَا عَلَی أُرْجُوحَۃٍ وَمَعِی صَوَاحِبِی فَصَرَخَتْ بِی فَأَتَیْتُہَا وَمَا أَدْرِی مَا یُرَادُ بِی فَأَخَذَتْ بِیَدِی فَأَوْقَفَتْنِی عَلَی الْبَابِ فَقُلْتُ ہَہْ ہَہْ حَتَّی ذَہَبَ نَفَسِی فَأَدْخَلَتْنِی بَیْتًا فَإِذَا نِسْوَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقُلْنَ عَلَی الْخَیْرِ وَالْبَرَکَۃِ وَعَلَی خَیْرِ طَائِرٍ فَأَسْلَمَتْنِی إِلَیْہِنَّ فَغَسَلْنَ رَأْسِی وَأَصْلَحْنَنِی فَلَمْ یَرُعْنِی إِلاَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- تَعْنِی ضُحًی فَأَسْلَمْنَنِی إِلَیْہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ مُرْسَلاً مُخْتَصَرًا وَأَخْرَجَہُ بِہَذَا اللَّفْظِ مِنْ حَدِیثِ عَلِیِّ بْنِ مُسْہِرٍ عَنْ ہِشَامٍ کَمَا مَضَی ذِکْرُہُ فِی آخِرِ أَبْوَابِ خُطْبَۃِ النِّکَاحِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم۱۴۲۲]
(١٤٤٦٨) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ساتھ نکاح چھ سال کی عمر میں کیا جب کہ میری رخصتی ٩ سال کی عمر میں ہوئی۔ فرماتی ہیں : میں مدینہ آئی تو ایک مہینہ بخار رہا اور میرے بال جڑے ہوئے تھے تو ام رومان میرے پاس آئیں اور میں جھولے میں تھی، میرے ساتھ میری سہلیاں بھی تھیں، انھوں نے مجھے آواز دی، میں ان کے پاس آئی، لیکن مجھے معلوم نہ تھا کہ انھوں نے مجھے کیوں بلایا ہے۔ انھوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر دروازے کی دہلیز پر لا کر کھڑا کردیا، میں سانس کی وجہ سے ہانپ رہی تھی، یہاں تک کہ میرا سانس درست ہوا تو انھوں نے مجھے گھر میں داخل کیا۔ وہاں انصاری عورتیں تھیں، انھوں نے کہا : آپ خیر و برکت اور ہمیشگی کی خیر پر ہیں تو والدہ نے مجھے ان کے سپرد کردیا اور انھوں نے میرے سر کو دھویا اور حالت کو سنوارا۔ پھر چاشت کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو انھوں نے مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سپرد کردیا۔