(۱۴۴۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَتْ أُمِّی تُعَالِجُنِی تُرِیدُ تُسَمِّنَنِی بَعْضَ السِّمَنِ لِتُدْخِلَنِی عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَمَا اسْتَقَامَ لَہَا بَعْضُ ذَلِکَ حَتَّی أَکَلْتُ التَّمْرَ بِالْقِثَّائِ فَسَمِنْتُ عَنْہُ کَأَحْسَنِ مَا یَکُونُ مِنَ السُّمْنَۃِ۔ [صحیح]
(١٤٤٦٩) ہشام بن عروہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ میری والدہ نے میرا علاج کرنا چاہا کہ میں صحت مند ہوجاؤں تاکہ وہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر داخل کردیں، میں کچھ درست ہوگئی یہاں تک کہ میں نے کھجور ککڑی کے ساتھ کھانی شروع کردی تو میں کافی صحت مند ہوگئی۔