(۱۴۴۷۰) وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ ہِشَامٍ بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : الْقِثَّائَ بِالرُّطَبِ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : نُوحُ بْنُ یَزِیدَ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : أَرَادَتْ أُمِّی أَنْ تُسَمِّنَنِی لِدُخُولِی عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَتْ فَلَمْ أَقْبَلْ عَلَیْہَا بِشَیْئٍ مِمَّا تُرِیدُ حَتَّی أَطْعَمَتْنِی الْقِثَّائَ بِالرُّطَبِ فَسَمِنْتُ عَلَیْہِ کَأَحْسَنِ السِّمَنِ۔ [صحیح]
(١٤٤٧٠) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : میری والدہ نے ارادہ کیا کہ وہ مجھے صحت مند کر کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر داخل کر دے، لیکن میں کسی چیز کو بھی قبول نہ کرتی تھی جس کا ان کا ارادہ ہوتا تھا، یہاں تک کہ انھوں نے کھجور اور ککڑی ملا کر کھلائی تو اس سے میں کافی صحت مند ہوگئی۔