hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 14478

.

سنن البيهقي

14478
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۴۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ سَیَّارٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُما قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی غَزَاۃٍ فَلَمَّا أَقْبَلْنَا تَعَجَّلْتُ عَلَی بَعِیرٍ لِی قَطُوفٍ فَلَحِقَنِی رَاکِبٌ مِنْ خَلْفِی فَنَخَسَ بَعِیرِی بِعَنَزَۃٍ کَانَتْ مَعَہُ فَانْطَلَقَ بَعِیرِی کَأَجْوَدِ مَا أَنْتَ رَائٍ مِنَ الإِبِلِ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : مَا یُعْجِلُکَ یَا جَابِرُ ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی حَدِیثُ عَہْدٍ بِعُرْسٍ فَقَالَ : أَبِکْرًا تَزَوَّجْتَہَا أَمْ ثَیِّبًا؟ ۔ قَالَ فَقُلْتُ : بَلْ ثَیِّبٌ قَالَ : فَہَلاَّ جَارِیَۃً تُلاَعِبُہَا وَتُلاَعِبُکَ ۔ قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ ذَہَبْنَا لِنَدْخُلَ فَقَالَ : أَمْہِلُوا حَتَّی نَدْخُلَ لَیْلاً أَیْ عِشَائً کَیْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَۃُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِیبَۃُ ۔ قَالَ وَقَالَ : فَإِذَا قَدِمْتَ فَالْکَیْسَ الْکَیْسَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ وَغَیْرِہِ عَنْ ہُشَیْمٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۷۱۵]
(١٤٤٧٢) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے، جب ہم واپس پلٹے تو میں نے اپنے سست رفتار اونٹ کی طرف جلدی کی۔ پیچھے سے میرے اونٹ کو کسی سوار نے نیزہ کے ذریعہ چوکا دیا تو میرا اونٹ ایسی چال چلا کہ میں نے کبھی کسی عمدہ اونٹ کو بھی ایسی چال چلتے نہ دیکھا تھا، میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : جابر کیسی جلدی ہے ؟ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! نئی نئی شادی کی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے ؟ کہتے ہیں : میں نے کہا : بیوہ سے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے کنواری سے شادی کیوں نہ کی تو اس سے کھیلتا وہ تجھ سے کھیلتی۔ جب مدینہ آئے تو ہم نے گھروں میں داخل ہونے کا قصد کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ٹھہر جاؤ عشاء کے وقت داخل ہونا تاکہ بکھرے بالوں والی کنگھی کرلے اور خاوند کو غیب پانے والے زیر ناف بال مونڈ لے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب جاؤ تو سمجھداری کا ثبوت دینا۔