(۱۴۴۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ لَیْثٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ قَالَ : فِی الرَّجُلِ یَتَزَوَّجُ الْمَرْأَۃَ یَخْلُو بِہَا وَلاَ یَمَسُّہَا ثُمَّ یُطَلِّقُہَا : لَیْسَ لَہَا إِلاَّ نِصْفُ الصَّدَاقِ لأَنَّ اللَّہَ تَعَالَی یَقُولُ { وَإِنْ طَلَّقْتُمُوہُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوہُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَہُنَّ فَرِیضَۃً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ }۔ [صحیح]
(١٤٤٧٣) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے شادی کے بعد تنہائی اختیار کی، لیکن دخول سے پہلے ہی طلاق دے دی تو وہ نصف حق مہر ادا کرے گا؛ کیونکہ یہی اللہ کا فرمان ہے : { وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْہُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَہُنَّ فَرِیْضَۃً فَنِصْفِ مَا فَرَضْتُمْ } [البقرۃ ٢٣٧] ” اگر تم نے مجامعت سے پہلے طلاق دے دی اور حق مہر مقرر کرلیا تو نصف ادا کرنا ہے جتنا تم نے مقرر کیا ہے۔ “