hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 1451

.

سنن البيهقي

1451
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۵۲) کَمَا أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ: الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطٍ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِیلَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ نَاجِیَۃَ بْنِ کَعْبٍ الأَسَدِیِّ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّیَ أَبُو طَالِبٍ أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ عَمَّکَ الضَّالَّ قَدْ ہَلَکَ۔ قَالَ : فَانْطَلِقْ فَوَارِہِ ۔ فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِمُوَارِیہِ۔ قَالَ : ((فَمَنْ یُوَارِیہِ؟ انْطَلَقْ فَوَارِہِ ، وَلاَ تُحْدِثَنَّ شَیْئًا حَتَّی تَأْتِیَنِی))۔ فَانْطَلَقْتُ فَوَارَیْتُہُ فَأَمَرَنِی أَنْ أَغْتَسِلَ ثُمَّ دَعَا لِی بِدَعَوَاتٍ وَمَا یَسُرُّنِی بِہَا مَا عَلَی الأَرْضِ مِنْ شَیْئٍ۔ وَرَوَاہُ أَیْضًا الثَّوْرِیُّ وَشُعْبَۃُ وَشَرِیکٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ وَرَوَاہُ الأَعْمَشُ عَنْہُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَلِیٍّ۔ وَنَاجِیَۃُ بْنُ کَعْبٍ الأَسَدِیُّ لَمْ تَثْبُتْ عَدَالَتْہُ عِنْدَ صَاحِبَیِ الصَّحِیحِ وَلَیْسَ فِیہِ: أَنَّہُ غَسَّلَہُ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَائِ قَالَ قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدِیثَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَمَرَہُ أَنْ یُوَارِیَ أَبَا طَالِبٍ۔ لَمْ نَجِدْہُ إِلاَّ عِنْدَ أَہْلِ الْکُوفَۃِ۔ وَفِی إِسْنَادِہِ بَعْضُ الشَّیْئِ ، رَوَاہُ أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ نَاجِیَۃَ ، وَلاَ نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَی عَنْ نَاجِیَۃَ غَیْرَ أَبِی إِسْحَاقَ۔ قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ: وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ ضَعِیفٌ عَنْ عَلِیٍّ ہَکَذَا۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداؤد ۳۲۱۴]
(١٤٥٢) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ جب ابوطالب فوت ہوگئے تو میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ کا گمراہ چچا فوت ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جا اس کو کسی گڑھے چھپادے، میں نے کہا : میں اس کو نہیں چھپاؤں گا، آپ نے فرمایا : کون اس کو چھپائے گا ؟ جا اس کو چھپادے کسی کو کچھ نہ بتانا پھر میرے پاس آجانا۔ میں چلا میں نے ان کی میت کو چھپادیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ کو حکم دیا کہ میں غسل کروں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے دعا کی اور اس دعا سے میں اتنا خوش ہوا کہ زمین پر کسی چیز سے خوش نہیں ہوا۔ (ب) ناجیہ بن کعب اسدی کی عدالت امام بخاری و مسلم کے ہاں ثابت نہیں اور نہ ہی یہ الفاظ أَنَّہٗ غَسَّلَہٗ ۔ (ج) امام علی بن مدینی کہتے ہیں کہ حدیث علی (رض) جس میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ابوطالب کو چھپانے کا حکم دیا، ہمیں صرف اہل کوفہ سے ملی اور اس کی سند میں قابل گرفت چیزیں ہیں۔ ناجیہ سے ابو اسحاق نے روایت کیا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ ابو اسحاق کے علاوہ کسی دوسرے نے ناجیہ سے روایت کیا ہو۔ (د) امام احمد (رح) فرماتے ہیں : سیدنا علی (رض) سے ایک ضعیف سند سے یہی روایت اسی طرح بیان کی گئی ہے۔