(۱۴۵۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُثْمَانَ الثَّقَفِیِّ عَنْ رَجُلٍ أَعْوَرَ مِنْ ثَقِیفٍ کَانَ یُقَالُ لَہُ مَعْرُوفًا أَیْ یُثْنَی عَلَیْہِ خَیْرًا إِنْ لَمْ یَکُنِ اسْمُہُ زُہَیْرَ بْنَ عُثْمَانَ فَلاَ أَدْرِی مَا اسْمُہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : الْوَلِیمَۃُ أَوَّلَ یَوْمٍ حَقٌّ وَالثَّانِی مَعْرُوفٌ وَالْیَوْمَ الثَّالِثَ سُمْعَۃٌ وَرِیَائٌ۔ [منکر]
(١٤٥٠٩) حضرت عبداللہ بن عثمان ثقفی تقیف کے ایک بھینگے شخص سے نقل فرماتے ہیں جس کی تعریف ہی کی جاتی تھی، اگر اس کا نام زہیر بن عثمان نہ ہو تو میں اس کے نام کو نہیں جانتا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پہلے دن ولیمہ حق ہے جبکہ دوسرے دن بھلائی اور تیسرے دن کا شہرت اور ریا کاری ہے۔