(۱۴۵۴۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ الشَّافِعِیُّ : لاَ أَدْرِی عَنْ عَطَائٍ أَوْ غَیْرِہِ قَالَ : جَائَ رَسُولُ ابْنِ صَفْوَانَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ وَہُوَ یُعَالِجُ زَمْزَمَ یَدْعُوہُ وَأَصْحَابَہُ فَأَمَرَہُمْ فَقَامُوا وَاسْتَعْفَاہُ وَقَالَ : إِنْ لَمْ یُعْفِنِی جِئْتُہُ۔
[صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٤٥٤١) حضرت عطاء یا کوئی دوسرا کہتا ہے کہ ابن صفوان کا قاصد حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے پاس آیا تو وہ زمزم سے علاج کر رہے تھے۔ اس نے ان کو اور ان کے شاگردوں کو دعوت دی تو انھوں نے شاگردوں کو روانہ کردیا اور خود اس سے معذرت کی اور کہا : اگر وہ میری معذرت قبول نہ کریں تو میں بھی آجاؤں گا۔