(۱۴۵۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ سُہَیْلٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ یَسَارٍ أَبِی الْحُبَابِ مَوْلَی بَنِی النَّجَّارِ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ عَنْ أَبِی طَلْحَۃَ الأَنْصَارِیِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِکَۃُ بَیْتًا فِیہِ کَلْبٌ وَلاَ تَمَاثِیلُ ۔ قَالَ : فَأَتَیْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقُلْتُ لَہَا : إِنَّ ہَذَا یُخْبِرُنِی أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : إِنَّ الْمَلاَئِکَۃَ لاَ تَدْخُلُ بَیْتًا فِیہِ کَلْبٌ وَلاَ تَمَاثِیلُ ۔ فَہَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ذَکَرَ ذَلِکَ قَالَتْ : لاَ وَلَکِنْ سَأُحَدِّثُکُمْ مَا رَأَیْتُہُ فَعَلَ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَرَجَ فِی غَزَاتِہِ فَأَخَذْتُ نَمَطًا فَسَتَرْتُہُ عَلَی الْبَابِ فَلَمَّا قَدِمَ فَرَأَی النَّمَطَ عَرَفْتُ الْکَرَاہِیَۃَ فِی وَجْہِہِ فَجَذَبَہُ حَتَّی ہَتَکَہُ أَوْ قَطَعَہُ وَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ لَمْ یَأْمُرْنَا أَنْ نَکْسُوَ الْحِجَارَۃَ وَالطِّینَ ۔ قَالَتْ : فَقَطَعْنَا مِنْہُ وِسَادَتَیْنِ وَحَشَوْتُہُمَا لِیفًا فَلَمْ یَعِبْ ذَلِکَ عَلَیَّ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَرَوَاہُ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سُہَیْلٍ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : الْحِجَارَۃَ وَاللَّبِنَ۔
(ق) وَہَذِہِ اللَّفْظَۃُ تَدُلُّ عَلَی کَرَاہِیَۃِ کِسْوَۃِ الْجِدَارِ وَإِنْ کَانَ سَبَبُ اللَّفْظِ فِیمَا رُوِّینَا مِنْ طُرُقِ ہَذَا الْحَدِیثِ یَدُلُّ عَلَی أَنَّ الْکَرَاہِیَۃَ کَانَتْ لِمَا فِیہِ مِنَ التِّمْثَالِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ تقدم قبل الذی قبلہ]
(١٤٥٨٦) حضرت ابو طلحہ انصاری فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : جس گھر میں کتا یا تصویر ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ کہتے ہیں : میں حضرت عائشہ (رض) کے پاس آیا تو ان سے کہا انھوں نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس گھر میں کتا اور تصاویر ہوں اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے، میں نے کہا : کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ؟ فرماتی ہیں : لیکن میں تمہیں بیان کرتی ہوں جو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک غزوہ میں گئے تو میں نے ایک پردہ لے کر دروازے پر ڈال دیا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آئے تو پردے کو دیکھا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے سے کراہت کو محسوس کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پردہ کو پھاڑ یا کاٹ دیا اور فرمایا کہ اللہ رب العزت نے ہمیں پتھروں اور مٹی کو پہنانے سے منع کیا ہے۔ فرماتی ہیں : ہم نے اس پردے کے دو تکیے بنا لیے اور ان کو کھجور کے پتوں سے بھر لیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے اوپر عیب نہیں لگایا۔ سہل کی حدیث میں ہے کہ پتھر اور اینٹوں کے لفظ آتے ہیں اور یہ دلالت کرتے ہیں دیواروں پر پردے ڈالنے کی کراہت پر، اگرچہ دوسری حدیث میں کراہت تصاویر کے بارے میں ہے۔