(۱۴۵۹۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا بَحْرٌ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ عَطَائٍ قَالَ : عَرَّسْتُ ابْنًا لِی فَدَعَوْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَعُبَیْدَ اللَّہِ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ فَلَمَّا وَقَفَا عَلَی الْبَابِ رَأَی عُبَیْدُ اللَّہِ الْبَیْتَ قَدْ سُتِرَ بِالدِّیبَاجِ فَرَجَعَ وَدَخَلَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ فَقُلْتُ : وَاللَّہِ لَقَدْ مَقَتَنِی حِینَ انْصَرَفَ فَقُلْتُ : أَصْلَحَکَ اللَّہُ وَاللَّہِ إِنَّ ذَلِکَ لَشَیْء ٌ مَا صَنَعْتُہُ وَمَا ہُوَ إِلاَّ شَیْء ٌ صَنَعَہُ النِّسَائُ وَغَلَبُونَا عَلَیْہِ۔ قَالَ فَحَدَّثَنِی أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا زَوَّجَ ابْنَہُ سَالِمًا فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ عُرْسِہِ دَعَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ نَاسًا فِیہِمْ أَبُو أَیُّوبَ الأَنْصَارِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمَّا وَقَفَ عَلَی الْبَابِ رَأَی أَبُو أَیُّوبَ فِی الْبَیْتِ سُتُورًا مِنْ قَزٍّ فَقَالَ : لَقَدْ فَعَلْتُمُوہَا یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ سَتَرْتُمُ الْجُدُرَ ثُمَّ انْصَرَفَ۔
وَفِی غَیْرِ ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ قَالَ : دَعَا ابْنُ عُمَرَ أَبَا أَیُّوبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فَرَأَی فِی الْبَیْتِ سِتْرًا عَلَی الْجِدَارِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : غَلَبَنَا عَلَیْہِ النِّسَائُ فَقَالَ : مَنْ کُنْتُ أَخْشَی عَلَیْہِ فَلَمْ أَکُنْ أَخْشَی عَلَیْکَ وَاللَّہِ لاَ أَطْعَمُ لَکَ طَعَامًا فَرَجَعَ۔ [صحیح۔ فصہ سالم مع ابیہ]
(١٤٥٩٠) ربیعہ بن عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بیٹے کی شادی پر قاسم بن محمد اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر کو دعوت دی، جب وہ دونوں دروازے پر پہنچے تو عبیداللہ نے گھر کے دروازے پر ریشمی پردے لٹکے ہوئے دیکھے تو واپس چلے گئے۔ لیکن قاسم بن محمد گھر میں داخل ہوگئے۔ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! آپ نے واپس جا کر مجھے ناراض کیا ہے۔ میں نے کہا : اللہ آپ کی اصلاح کرے، اللہ کی قسم ! میں نے یہ کام نہیں کیا، یہ کام تو عورتوں نے زبردستی کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنے بیٹے سالم کی شادی کی تو انھوں نے لوگوں کو شادی کی دعوت دی جس میں ابوایوب انصاری بھی تھے جب ابوایوب نے گھر کو ریشم کے پردوں سے مزین دیکھا تو گھر کے دروازے پر ٹھہر گئے اور فرمانے لگے : اے ابوعبدالرحمن ! تم نے یہ کیا ہے کہ تم نے دیواروں پر پردے لٹکا رکھے ہیں ! پھر چلے گئے۔ دوسری روایت میں ہے کہ ابن عمر (رض) نے ابوایوب (رض) کو دعوت دی۔ ابوایوب نے گھر میں دیواروں پر لٹکے ہوئے پردے دیکھے تو ابن عمر (رض) کہنے لگے : عورتیں ہم پر غالب آگئیں تو ابوایوب فرماتے ہیں : جس چیز کا میں لوگوں پر خوف کھاتا تھا مجھے آپ سے ڈر نہیں تھا، اللہ کی قسم ! میں آپ کا کھانا نہیں کھاؤں گا۔