(۱۴۵۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْزَۃَ الْہَرَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ : تَزَوَّجَ سَلْمَانُ إِلَی أَبِی قُرَّۃَ الْکِنْدِیِّ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَیْہَا قَالَ : یَا ہَذِہِ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَوْصَانِی إِنْ قَضَی اللَّہُ لَکَ أَنْ تَزَوَّجَ فَیَکُونُ أَوَّلُ مَا تَجْتَمِعَانِ عَلَیْہِ طَاعَۃً فَقَالَتْ : إِنَّکَ جَلَسْتَ مَجْلِسَ الْمَرْئِ یُطَاعُ أَمْرُہُ فَقَالَ لَہَا : قَوْمِی نُصَلِّی وَنَدْعُو فَفَعَلاَ فَرَأَی بَیْتًا مُسَتَّرًا فَقَالَ : مَا بَالُ بَیْتِکُمْ مَحْمُومٌ أَوَتَحَوَّلَتِ الْکَعْبَۃُ فِی کِنْدَۃَ؟ فَقَالُوا : لَیْسَ مَحْمُومًا وَلَمْ تَتَحَوَّلِ الْکَعْبَۃُ فِی کِنْدَۃَ فَقَالَ: لاَ أَدْخُلُہُ حَتَّی یُہْتَکَ کُلُّ سِتْرٍ إِلاَّ سِتْرًا عَلَی الْبَابِ۔ ہَذَا مُنْقَطِعٌ۔وَرُوِّینَا فِی کَرَاہِیَۃِ ذَلِکَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَیُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ ذَلِکَ لِمَا فِیہِ مِنَ السَّرَفِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
[ضعیف]
(١٤٥٩١) ابن جریج کہتے ہیں : سلیمان نے ابو قرۃ کندی سے شادی کی۔ جب ان کے پاس گئے تو کہنے لگے : اے عورت ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے نصیحت کی تھی اگر اللہ تیرے نصیب میں شادی کرے تو سب سے پہلی چیز جس پر تم دونوں کا اجتماع ہو وہ اطاعت ہے۔ اس عورت نے کہا : آپ ایسے شخص کی مجلس میں بیٹھتے رہے جس کے حکم کی اطاعت کی جاتی ہے تو وہ اس عورت سے کہنے لگے کہ میری قوم ہمارے لیے دعا کرے گی اور ہم ان کی دعوت کریں گے۔ ان دونوں نے ایسا کیا۔ جب اس نے گھر کو پردوں سے ڈھکا ہوا دیکھا تو کہنے لگے : تمہارے گھر کو سیاہ کس نے کردیا یا کعبہ کندہ میں آگیا ہے ؟ انھوں نے کہا : نہ تو وہ سیاہ ہے اور نہ ہی کعبہ کندہ میں منتقل ہوا ہے تو کہنے لگے : جب تک تمام پردے پھاڑ نہ دیے جائیں سوائے دروازے کے پردے میں گھر میں داخل نہ ہوں گا اور دوسری روایت میں حضرت عمر بن خطاب (رض) سے اس کی کراہت منقول ہے اور یہ فضول خرچی کے مشابہہ ہے۔