(۱۴۶۹۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ عَنْ فَذَکَرَہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : وَالدُّفُّ فِی النِّکَاحِ ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : قَدْ زَعَمَ بَعْضُ النَّاسِ أَنَّ الدُّفَّ لُغَۃٌ وَالْخَبَرُ بِالْفَتْحِ ، أَمَّا قَوْلُہُ الصَّوْتُ فَبَعْضُ النَّاسِ یَذْہَبُ بِہِ إِلَی السَّمَاعِ وَہَذَا خَطَأٌ وَإِنَّمَا مَعْنَاہُ عِنْدَنَا إِعْلاَنُ النِّکَاحِ وَاضْطِرَابُ الصَّوْتِ بِہِ وَالذِّکْرُ فِی النَّاسِ وَکَذَلِکَ قَالَ عُمَرُ۔ [حسن۔ تقدم قبلہ]
(١٤٦٩٥) ہشیم (رض) فرماتے ہیں کہ دف بجانا نکاح کے موقع پر۔ ابوعبید (رض) کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ دف لغوی اعتبار سے اور الخبر فتح کے ساتھ لیکن صوت، یعنی لوگوں کے نزدیک سماع مراد ہے۔ یہ غلطی ہے، ہمارے نزدیک اس کا معنی نکاح کا اعلان، آواز پیدا کرنا اور لوگوں میں شہرت کرنا ہے۔