hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 14723

.

سنن البيهقي

14723
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۷۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَتْ : تَزَوَّجَنِی الزُّبَیْرُ وَمَا لَہُ فِی الأَرْضِ مِنْ مَالٍ وَلاَ مَمْلُوکٍ وَلاَ شَیْئٍ غَیْرَ فَرَسِہِ قَالَتْ فَکُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَہُ وَأَکْفِیہِ مُؤْنَتَہُ وَأَسُوسُہُ وَأَدُقُّ النَّوَی لِنَاضِحِہِ وَأَسْتَقِی الْمَائَ وَأَخْرِزُ غَرْبَہُ وَأَعْجِنُ وَلَمْ أَکُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ فَکَانَ تَخْبِزُ لِی جَارَاتٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَکُنَّ نِسْوَۃَ صِدْقٍ قَالَتْ وَکُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَی مِنْ أَرْضِ الزُّبَیْرِ الَّتِی أَقْطَعَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی رَأْسِی وَہِیَ عَلَی ثُلُثَیْ فَرْسَخٍ قَالَتْ فَجِئْتُ وَالنَّوَی عَلَی رَأْسِی فَلَقِیتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَمَعَہُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِہِ فَدَعَانِی ثُمَّ قَالَ : إِخْ إِخْ ۔ لِیَحْمِلَنِی خَلْفَہُ قَالَتْ فَاسْتَحْیَیْتُ وَعَرَفْتُ غَیْرَتَہُ فَقَالَ : وَاللَّہِ لَحَمْلُکِ عَلَی رَأْسِکِ أَشَدُّ مِنْ رُکُوبِکِ مَعَہُ۔ قَالَتْ حَتَّی أَرْسَلَ إِلَیَّ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِخَادِمٍ تَکْفِینِی سِیَاسَۃَ الْفَرَسِ فَکَأَنَّمَا أَعْتَقَنِی۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مَحْمُودٍ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔[صحیح۔ متفق علیہ]
(١٤٧١٧) اسماء بنت ابی بکر (رض) فرماتی ہیں کہ زبیر نے مجھ سے شادی کی تو اس کے پاس زمین مال اور غلام نہ تھے سوائے گھوڑے کے۔ کہتی ہیں : میں گھوڑے کے لیے گھاس لاتی اور ان کے کام کرتی، گھوڑے کا خیال رکھتی اور اس کے لیے گھٹلیاں پیستی پانی پلاتی اور مہمانوں کا خیال رکھتی، آٹا گھوندتی لیکن میں روٹی اچھی نہ پکا سکتی تھی۔ انصاری بچیاں مجھے روٹی پکا کردیتی اور وہ سچی عورتیں تھیں۔ کہتی ہیں : میں زبیر کی زمین سے اپنے سر پر دو تہائی فرسخ کے فاصلہ سے کھجور کی گٹھلیاں لے کر آتی۔ فرماتی ہیں : میں گٹھلیاں لے کر آرہی تھیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صحابہ (رض) کی ایک جماعت تھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا اور فرمایا : میرے پیچھے سوار ہوجاؤ۔ کہتی ہیں : میں نے شرم محسوس کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی غیرت کو پہچانا۔ آپ نے فرمایا : گٹھلیوں کو سر پر اٹھانا یہ سوار ہونے سے زیادہ مشکل ہے۔ فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے میرے پاس ایک خادم بھیج دیا جو میرے پاس گھوڑے کی دیکھ بھال سے کفایت کرتا تھا گویا کہ اس نے مجھے آزاد کردیا۔