hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 14731

.

سنن البيهقي

14731
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۷۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَزِینٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ لَفْظًا عَنْ دَاوُدَ الْوَرَّاقِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَیْدَۃَ الْقُشَیْرِیِّ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمَّا دُفِعْتُ إِلَیْہِ قَالَ : أَمَا إِنِّی سَأَلْتُ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یُعِینَنِی عَلَیْکُمْ بِالسَّنَۃِ تُحْفِیکُمْ وَبِالرُّعْبِ أَنْ یَجْعَلَہُ فِی قُلُوبِکُمْ ۔ قَالَ فَقَالَ بِیَدَیْہِ جَمِیعًا : أَمَا إِنِّی قَدْ حَلَفْتُ ہَکَذَا وَہَکَذَا أَنْ لاَ أُؤْمِنَ بِکَ وَلاَ أتَّبِعَکَ فَمَا زَالَتِ السَّنَۃُ تُحْفِینِی وَالرُّعْبُ یُجْعَلُ فِی قَلْبِی حَتَّی قُمْتُ بَیْنَ یَدَیْکَ أَفَبِاللَّہِ الَّذِی أَرْسَلَکَ أَہُوَ الَّذِی أَرْسَلَک بِمَا تَقُولُ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : وَہُوَ أَمَرَکَ بِمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : فَمَا تَقُولُ فِی نِسَائِنَا؟ قَالَ : ہُنَّ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ وَأَطْعِمُوہُنَّ مِمَّا تَأْکُلُونَ وَاکْسُوہُنَّ مِمَّا تَلْبَسُونَ وَلاَ تَضْرِبُوہُنَّ وَلاَ تُقَبِّحُوہُنَّ ۔ قَالَ : فَیَنْظُرُ أَحَدُنَا إِلَی عَوْرَۃِ أَخِیہِ إِذَا اجْتَمَعْنَا؟ قَالَ : لاَ ۔ قَالَ : فَإِذَا تَفَرَّقْنَا؟ قَالَ : فَضَمَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِحْدَی فَخِذَیْہِ عَلَی الأُخْرَی ثُمَّ قَالَ : اللَّہُ أَحَقُّ أَنْ تَسْتَحْیُوا ۔ قَالَ وَسَمِعْتُہُ یَقُولُ : یُحْشَرُ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَیْہِمُ الْفِدَامُ فَأَوَّلُ مَا یَنْطِقُ مِنَ الإِنْسَانِ کَفُّہُ وَفَخِذُہُ ۔ [ضعیف]
(١٤٧٢٥) سعید بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، جب میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اللہ رب العزت سے سوال کیا ہے کہ وہ تمہارے خلاف میری مدد کرے، ایسی قحط سالی کے ذریعے جو تمہیں ہلاک کر دے اور ایسے رعب کر ذریعے جو تمہارے دلوں میں بیٹھ جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ہوا اور کہنے لگا : میں نے اس طرح قسم کھائی ہے کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہ لاؤں گا اور نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کروں گا کہ جب تک قحط سالی مجھے برباد کر دے اور میرے دل میں رعیب بیٹھ جائے اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھڑا کیا جاؤں۔ کیا اللہ کی قسم ! اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث کیا ہے اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ رہے ہیں کیا یہ اللہ کا حکم ہے ؟ فرمایا : ہاں۔ اس نے کہا : جو آپ ہمیں حکم دے رہے ہیں یہ اللہ نے آپ کو دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، اس نے کہا : آپ ہماری عورتوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ تمہاری کھیتیاں ہیں، تم اپنی کھیتی میں آؤ جیسے چاہو اور ان کو کھلاؤ جہاں سے تم کھاتے ہو اور ان کو پہناؤ جو تم پہنتے ہو اور تم ان کو نہ مارو اور نہ برا بھلا کہو۔ اس نے کہا : جب ہم جمع ہوں تو کیا ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھ سکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، اس نے کہا : جب ہم جدا جدا ہوں ؟ تب کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ایک ران پر دوسری ران کو رکھا اور فرمایا : اللہ زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے حیا کرو۔ کہتے ہیں کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کیا جائے گا ان کے منہ بند کردیے جائیں گے تو انسان کے سب سے پہلے ہتھیلی اور ران کلام کرے گی۔