hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 14737

.

سنن البيهقي

14737
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۷۳۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ وَسُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ : أَنَّ السُّنَّۃَ فِی ہَاتَیْنِ الآیَتَیْنِ اللَّتَیْنِ ذَکَرَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِمَا نُشُوزَ الْمَرْئِ وَإِعْرَاضَہُ عَنِ امْرَأَتِہِ فِی قَوْلِہِ { وَإِنِ امْرَأَۃٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} إِلَی تَمَامِ آیَتَیْنِ أَنَّ الْمَرْئَ إِذَا نَشَزَ عَنِ امْرَأَتِہِ وَآثَرَ عَلَیْہَا فَإِنَّ مِنَ الْحَقِّ عَلَیْہِ أَنْ یَعْرِضَ عَلَیْہَا أَنْ یُطَلِّقَہَا أَوْ تَسْتَقِرَّ عِنْدَہُ عَلَی مَا کَانَتْ مِنْ أُثْرَۃٍ فِی الْقَسْمِ مِنْ نَفْسِہِ وَمَالِہِ فَإِنِ اسْتَقَرَّتْ عِنْدَہُ عَلَی ذَلِکَ وَکَرِہَتْ أَنْ یُطَلِّقَہَا فَلاَ حَرَجَ عَلَیْہِ فِیمَا آثَرَ عَلَیْہَا مِنْ ذَلِکَ فَإِنْ لَمْ یَعْرِضْ عَلَیْہَا الطَّلاَقَ وَصَالَحَہَا عَلَی أَنْ یُعْطِیَہَا مِنْ مَالِہِ مَا تَرْضَی وَتَقَرَّ عِنْدَہُ عَلَی الأُثْرَۃِ فِی الْقَسْمِ مِنْ مَالِہِ وَنَفْسِہِ صَلَحَ لَہُ ذَلِکَ وَجَازَ صُلْحُہُمَا عَلَیْہِ کَذَلِکَ ذَکَرَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ وَسُلَیْمَانُ الصُّلْحَ الَّذِی قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ( لاَ جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَصَّالَحَا بَیْنَہُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَیْرٌ) وَقَدْ ذُکِرَ لِی أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِیجٍ الأَنْصَارِیَّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- کَانَتْ عِنْدَہُ امْرَأَۃٌ حَتَّی إِذَا کَبِرَتْ تَزَوَّجَ عَلَیْہَا فَتَاۃً شَابَّۃً فَآثَرَ عَلَیْہَا الشَّابَّۃَ فَنَاشَدَتْہُ الطَّلاَقَ فَطَلَّقَہَا تَطْلِیقَۃً ثُمَّ أَمْہَلَہَا حَتَّی إِذَا کَادَتْ تَحِلُّ رَاجَعَہَا ثُمَّ عَادَ فَآثَرَ الشَّابَّۃَ عَلَیْہَا فَنَاشَدَتْہُ الطَّلاَقَ فَطَلَّقَہَا تَطْلِیقَۃً أُخْرَی ثُمَّ أَمْہَلَہَا حَتَّی إِذَا کَادَتْ تَحِلُّ رَاجَعَہَا ثُمَّ عَادَ فَآثَرَ الشَّابَّۃَ عَلَیْہَا فَنَاشَدَتْہُ الطَّلاَقَ فَقَالَ لَہَا : مَا شِئْتِ إِنَّمَا بَقِیَتْ لَکِ تَطْلِیقَۃٌ وَاحِدَۃٌ فَإِنْ شِئْتِ اسْتَقْرَرْتِ عَلَی مَا تَرَیْ مِنَ الأُثْرَۃِ وَإِنْ شِئْتِ فَارَقْتُکِ۔ فَقَالَتْ : لاَ بَلْ أَسْتَقِرُّ عَلَی الأُثْرَۃِ فَأَمْسَکَہَا عَلَی ذَلِکَ فَکَانَ ذَلِکَ صُلْحَہُمَا وَلَمْ یَرَ رَافِعٌ عَلَیْہِ إِثْمًا حِینَ رَضِیَتْ بِأَنْ تَسْتَقِرَّ عِنْدَہُ عَلَی الأُثْرَۃِ فِیمَا آثَرَ بِہِ عَلَیْہَا۔ [صحیح]
(١٤٧٣١) سعید بن مسیب اور سلمان بن یسار (رض) فرماتے ہیں کہ ان دو آیات میں سنت طریقہ جو اللہ رب العزت نے مرد کی لڑائی اور اعراض عورت سے ذکر کیا ہے : { وَ اِنِ امْرَاَۃٌخَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا }[النساء ١٢٨] جب مرد اپنی بیوی سے لڑائی یا اس پر کسی کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ مرد کا حق ہے کہ اس سے اعراض کرے یا طلاق دے دے یا وہ اس کے پاس ٹھہری رہے اگرچہ وہ اپنے مال اور نفس میں کسی دوسری کو اس پر ترجیح دے۔ اگر عورت اس کے پاس رہنا چاہیے اور طلاق لینا پسند نہ کرے تو مرد کا کسی دوسری کو اس پر ترجیح دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر مرد طلاق نہ دے بلکہ عورت کو اتنا مال دینے پر رضا مند ہو، جتنا وہ لینا چاہے تو وہ عورت مال اور باری کی تقسم کی ترجیح میں اس کے پاس رہنا چاہتی ہے، دونوں کے درمیان صلح جائز ہے، ایسے ہی سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار نے صلح کا تذکرہ کیا ہے : { فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَآ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَہُمَا صُلْحًا وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ} [النساء ١٢٨] حضرت رافع بن خدیج (رض) کے نکاح میں ایک عورت تھی، جب وہ بوڑھی ہوگئی تو انھوں نے ایک نوجوان لڑکی سے شادی کرلی۔ بوڑھی عورت نے طلاق کا مطالبہ کردیا تو رافع بن خدیج نے طلاق دے دی، پھر اس کو روکے رکھا جب حلال ہونے کے قریب ہوئی تو اس سے رجوع کرلیا، پھر نوجوان لڑکی کو رافع نے ان پر ترجیح دی تو اس نے دوبارہ طلاق کا مطالبہ کردیا تو رافع نے دوسری طلاق بھی دے دی۔ پھر روکے رکھا اور حلال ہونے کے قریب پھر رجوع کرلیا، پھر رافع نے نوجوان لڑکی کو ترجیح دی تو بوڑھی نے پھر طلاق کا مطالبہ کردیا، رافع فرمانے لگے : اب آخری موقع ہے اگر چاہو تو میں طلاق دے دیتا ہوں، اگر اس ترجیح پر باقی رہنا چاہو تو درست۔ وگرنہ جدا کردیتا ہوں تو اس بوڑھی نے اس پر ترجیح پر باقی رہنے کو پسند کرلیا۔ تو انھوں نے روکے رکھا، یہ ان دونوں کے درمیان صلح تھی۔ تو رافع نے اس ترجیح پر گناہ نہیں سمجھا جب وہ رہنے پر رضا مندی ہوگئی۔