(۱۴۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی وَاللَّفْظُ لأَبِی الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ مُعَاذَۃَ الْعَدَوِیَّۃِ: أَنَّ امْرَأَۃً سَأَلَتْ عَائِشَۃَ: مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِی الصَّوْمَ وَلاَ تَقْضِی الصَّلاَۃَ؟ فَقَالَتْ لَہَا: أَحَرُورِیَّۃٌ أَنْتِ؟ فَقَالَتْ: لَسْتُ بِحَرُورِیَّۃٍ وَلَکِنِّی أَسْأَلُ۔ فَقَالَتْ: کَانَ یُصِیبُنَا ذَلِکَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فُنُؤْمَرُ بِقَضَائِ الصَّوْمِ ، وَلاَ نُؤْمَرُ بِقَضَائِ الصَّلاَۃِ۔
قَالَ مَعْمَرٌ وَأَخْبَرَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ مُعَاذَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ مِثْلَہُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عَاصِمٍ وَأَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ حَمَّادٍ عَنْ أَیُّوبَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۵۱]
(١٤٧٥) معاذہ عدویہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے سیدہ عائشہ (رض) سے سوال کیا : کیا حائضہ روزے کی قضاکرے گی اور نماز کی قضا نہیں کرے گی ؟ انھوں نے فرمایا : کیا تو حروریہ ہے ؟ اس نے کہا میں حروریہ نہیں ہوں، لیکن میں نے آپ سے سوال کیا ہے۔ انھوں نے کہا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ہم کو (حیض) پہنچتا تھا تو ہمیں روزے کی قضاکا حکم دیا جاتا تھا لیکن نماز کی قضاکا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔