(۱۴۷۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمِشٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ إِیَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی ذُبَابٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تَضْرِبُوا إِمَائَ اللَّہِ ۔ قَالَ : فَذَئِرَ النِّسَائُ وَسَائَ تْ أَخْلاَقُہُنَّ عَلَی أَزْوَاجِہِنَّ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ذَئِرَ النِّسَائُ وَسَائَ تْ أَخْلاَقُہُنَّ عَلَی أَزْوَاجِہِنَّ مُنْذُ نَہَیْتَ عَنْ ضَرْبِہِنَّ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : فَاضْرِبُوہُنَّ ۔ قَالَ فَضَرَبَ النَّاسُ نِسَائَ ہُمْ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ قَالَ فَأَتَی نِسَاء ٌ کَثِیرٌ یَشْتَکِینَ الضَّرْبَ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- حِینَ أَصْبَحَ : لَقَدْ أَطَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ اللَّیْلَۃَ سَبْعُونَ امْرَأَۃً کُلُّہُنَّ یَشْتَکِینَ الضَّرْبَ وَایْمُ اللَّہِ لاَ تَجِدُونَ أُولَئِکَ خِیَارَکُمْ ۔ بَلَغَنَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیِّ أَنَّہُ قَالَ : لاَ یُعْرَفُ لإِیَاسٍ صُحْبَۃٌ۔ [صحیح]
(١٤٧٧٥) ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اللہ کی بندیوں کو نہ مارو، کہنے لگے : عورتیں دلیر ہوگئیں ہیں اور اپنے خاوندوں سے برے اخلاق سے پیش آتی ہیں۔ حضرت عمر (رض) کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! عورتیں دلیر ہوگئی ہیں اور ان کے اخلاق خاوندوں کے خلاف بگڑ گئے ہیں، جب سے آپ نے ان کو مارنے سے منع کیا ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کو مارو۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اس رات اپنی عورتوں کی پٹائی کی۔ راوی کہتے ہیں : بہت ساری عورتیں پٹائی کی شکایت لے کر حاضر ہوگئیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب صبح کی تو فرمایا کہ آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ٧٠ عورتیں آئیں، وہ ساری کی ساری مار کی شکایت کر رہی تھیں، اللہ کی قسم ! تم ایسے لوگوں کو اچھے لوگ نہیں پاؤ گے۔