(۱۴۷۷۶) قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ مُرْسَلاً أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِیلَ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ کَثِیرِ بْنِ عُفَیْرٍ وَسَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ أُمِّ کُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ قَالَتْ : کَانَ الرِّجَالُ نُہُوا عَنْ ضَرْبِ النِّسَائِ ثُمَّ شَکُوہُنَّ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَخَلَّی بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ ضَرْبِہِنَّ ثُمَّ قُلْتُ : لَقَدْ طَافَ اللَّیْلَۃَ بِآلِ مُحَمَّدٍ -ﷺ- سَبْعُونَ امْرَأَۃً کُلُّہُنَّ قَدْ ضُرِبَتْ۔ قَالَ یَحْیَی : وَحَسِبْتُ أَنَّ الْقَاسِمَ قَالَ ثُمَّ قِیلَ لَہُمْ بَعْدُ : وَلَنْ یَضْرِبَ خِیَارُکُمْ ۔ [صحیح لغیرہ]
(١٤٧٧٦) ام کلثوم بنت ابی بکر (رض) فرماتی ہیں کہ مردوں کو عورتوں کے مارنے سے منع کردیا گیا تو انھوں نے عورتوں کی شکایت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے مارنے کی اجازت دے دی۔ پھر میں نے کہا کہ آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آج رات ٧٠ ستر عورتیں آئیں جن کو مارا گیا تھا۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ وہ قاسم تھے۔ راوی کہتے ہیں : پھر بعد میں ان سے کہا گیا : تمہارے اچھے لوگ ہرگز نہ ماریں۔