hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 14783

.

سنن البيهقي

14783
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۷۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ أُمِّ أَیْمَنَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَوْصَی بَعْضَ أَہْلِ بَیْتِہِ : لاَ تُشْرِکْ بِاللَّہِ وَإِنْ عُذِّبْتَ وَإِنْ حُرِّقْتَ وَأَطِعْ وَالِدَیْکَ وَإِنْ أَمَرَاکَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ فَاخْرُجْ وَلاَ تَتْرُکِ الصَّلاَۃَ مُتَعَمِّدًا فَإِنَّہُ مَنْ تَرَکَ الصَّلاَۃَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ ذِمَّۃُ اللَّہِ إِیَّاکَ وَالْخَمْرَ فَإِنَّہَا مِفْتَاحُ کُلِّ شَرٍّ وَإِیَّاکَ وَالْمَعْصِیَۃَ فَإِنَّہَا لِسَخَطِ اللَّہِ لاَ تُنَازِعَنَّ الأَمْرَ أَہْلَہُ وَإِنْ رَأَیْتَ أَنَّ لَکَ وَلاَ تَفِرَّ مِنَ الزَّحْفِ وَإِنْ أَصَابَ النَّاسَ مُوتَانٌ وَأَنْتَ فِیہِمْ فَاثْبُتْ أَنْفِقْ عَلَی أَہْلِ بَیْتِکَ مِنْ طَوْلِکَ وَلاَ تَرْفَعْ عَصَاکَ عَنْہُمْ وَأَخِفْہُمْ فِی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ ۔ قَالَ الشَّیْخُ : فِی ہَذَا إِرْسَالٌ بَیْنَ مَکْحُولٍ وَأُمِّ أَیْمَنَ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ قَالَ الْکِسَائِیُّ وَغَیْرُہُ یُقَالُ إِنَّہُ لَمْ یُرِدِ الْعَصَا الَّتِی یُضْرَبُ بِہَا وَلاَ أَمَرَ أَحَدًا قَطُّ بِذَلِکَ وَلَکِنَّہُ أَرَادَ الأَدَبَ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : وَأَصْلُ الْعَصَا الاِجْتِمَاعُ وَالاِئْتِلاَفُ۔ [ضعیف]
(١٤٧٧٧) ام ایمن فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے گھر والوں کو نصیحت کی کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کریں اگرچہ عذاب دیا جائے یا جلا دیا جائے اور اپنے والدین کی اطاعت کرو اگرچہ وہ تجھے حکم دیں کہ ہر چیز کو چھوڑ دو اور فرض نماز کو جان بوجھ کر نہ چھوڑنا جس نے فرض نماز کو جان بوجھ کر چھوڑا، اس سے اللہ کا ذمہ ختم ہوگیا، شراب سے بچو کیونکہ یہ تمام برائیوں کی جڑ ہے اور نافرمانی سے بچو، یہ اللہ کی ناراضگی ہے اور حکومت والوں سے حکومت نہ چھینو، اگرچہ آپ کا خیال ہے کہ آپ کے لیے مناسب ہے اور لڑائی سے نہ بھاگ، اگرچہ لوگوں کو موت آئے۔ اگر تو ان میں موجود ہو تو ثابت قدم رہ اور اپنے گھر والوں پر اپنے مال سے خرچ کر اور اپنی لاٹھی ان سے نہ اٹھا اور تو ان کے بارے میں اللہ رب العزت سے ڈر۔ کسائی وغیرہ فرماتے ہیں کہ لاٹھی سے مراد وہ نہیں جس سے مارا جاتا ہے بلکہ آدب سکھلانا مقصود ہے۔