hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 14806

.

سنن البيهقي

14806
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۸۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِیُّ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْہَیْثَمِ الْبَلَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیسَ الْحَنْظَلِیُّ حَدَّثَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ أَخْبَرَہُ : أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَطَبَ ابْنَۃَ أَبِی جَہْلٍ وَعِنْدَہُ فَاطِمَۃُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِکَ فَاطِمَۃُ أَتَتْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ لَہُ : إِنَّ قَوْمَکَ یَتَحَدَّثُونَ أَنَّکَ لاَ تَغْضَبُ لِبَنَاتِکَ وَہَذَا عَلِیٌّ نَاکِحٌ ابْنَۃَ أَبِی جَہْلٍ۔ قَالَ الْمِسْوَرُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَسَمِعْتُہُ حِینَ تَشَہَّدَ ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّی أَنْکَحْتُ أَبَا الْعَاصِ فَحَدَّثَنِی فَصَدَقَنِی وَإِنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ بَضْعَۃٌ مِنِّی وَإِنِّی أَکْرَہُ أَنْ یَفْتِنُوہَا وَإِنَّہُ وَاللَّہِ لاَ تَجْتَمِعُ ابْنَۃُ رَسُولِ اللَّہِ وَابْنَۃُ عَدُوِّ اللَّہِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا ۔ فَتَرَکَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الْخِطْبَۃَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِیِّ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَۃَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَلِیٍّ عَنِ الْمِسْوَرِ فَزَادَ : حَدَّثَنِی فَصَدَقَنِی وَوَعَدَنِی فَوَفَی لِی وَإِنِّی لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلاَلاً وَلاَ أُحِلُّ حَرَامًا ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٤٨٠٠) مسور بن مخرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ابوجہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام دیا، حالانکہ ان کے نکاح میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ تھی۔ جب فاطمہ (رض) نے یہ بات سنی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں اور کہنی لگیں کہ آپ کی قوم کے لوگ باتیں کرتے ہیں کہ آپ بیٹیوں کی وجہ سے غصے نہیں ہوتے۔ یہ علی ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں۔ مسور کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب خطبہ دے رہے تھے تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ میں نے ابو العاص کا نکاح کیا اس نے مجھے سچ بیان کیا اور فاطمہ (رض) بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا ٹکڑا ہیں اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ اس کو آزمائش میں ڈالیں۔ اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کبھی بھی ایک شخص کے نکاح میں نہیں رہ سکتیں تو حضرت علی (رض) نے نکاح کو چھوڑ دیا۔
(ب) مسور نے کچھ زائد الفاظ بیان کیے ہیں کہ اس نے مجھ سے سچ بولا اور اپنے وعدے کو پورا کیا، لیکن میں حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے والا نہیں ہوں۔