(۱۴۸۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الإِسْفَرَائِینِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا أُمَیَّۃُ بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ عَنِ الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَائَ قَالَتْ : تَزَوَّجْتُ ابْنَ عَمٍّ لِی فَشَقِیَ بِی وَشَقِیتُ بِہِ وَعَنِیَ بِی وَعَنِیتُ بِہِ وَإِنِّی اسْتَأْدَیْتُ عَلَیْہِ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَظَلَّمَنِی وَظَلَّمْتُہُ وَکَثَّرَ عَلَیَّ وَکَثَّرْتُ عَلَیْہِ وَإِنَّہَا انْفَلَتَتْ مِنِّی کَلِمَۃٌ أَنَا أَفْتَدِی بِمَالِی کُلِّہِ۔ قَالَ : قَدْ قَبِلْتُ۔ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : خُذْ مِنْہَا قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ فَدَفَعْتُ إِلَیْہِ مَتَاعِی کُلَّہُ إِلاَّ ثِیَابِی وَفِرَاشِی وَإِنَّہُ قَالَ لِی : لاَ أَرْضَی وَإِنَّہُ اسْتَأْدَانِی عَلَی عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْہُ قَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ الشَّرْطَ أَمْلِکُ قَالَ : أَجَلْ فَخُذْ مِنْہَا مَتَاعَہَا کُلَّہُ حَتَّی عِقَاصِہَا قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ فَدَفَعْتُ إِلَیْہِ کُلَّ شَیْئٍ حَتَّی أَجَفْتُ بَیْنِی وَبَیْنَہُ الْبَابَ۔ [ضعیف]
(١٤٨٥٦) ربیع بنت معوذ بن عفراء کہتی ہیں کہ میں نے اپنے چچا زاد سے شادی کی، اس نے مجھے مشقت میں ڈالا اور میں نے اس کو مشقت میں ڈالا، اس نے مجھے تکلیف میں ڈالا اور میں نے اس کو تکلیف میں ڈالا، اس نے مجھے ظالم ٹھہرایا تو میں نے بھی، اس نے میرے اوپر کثرت سے ظلم کیا تو میں نے بھی کیا اور میری جانب سے ایک کلمہ کہہ دیا گیا کہ میں اپنا تمام مال فدیہ میں دیتی ہوں۔ اس نے کہہ دیا : میں نے قبول کیا۔ حضرت عثمان فرمانے لگے : لے لو۔ کہتی ہیں : میں نے اپنا تمام سامان اس کو دے دیا سوائے اپنے کپڑوں اور بستر کے۔ اس نے کہہ دیا : یہ بھی میرے پاس۔ میں راضی نہیں ہوں۔ پھر وہ مجھے لے کر حضرت عثمان (رض) کے پاس لائے۔ جب ہم ان کے قریب ہوئے تو کہنے لگا : اے امیرالمومنین ! میں نے ملکیت کی شرط رکھی ہے تو حضرت عثمان (رض) فرمانے لگے : اپنا تمام سامان لو حتیٰ کہ بال باندھنے کا بند بھی لے لو۔ کہتی ہیں : میں نے جا کر ہر چیز اس کو لوٹا دی اور میں نے اپنے اور اس کی درمیان دروازہ بند کرلیا۔