hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 14863

.

سنن البيهقي

14863
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۸۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَجَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ سَلَمَۃَ بْنِ أَبِی الْحُسَامِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ حَبِیبَۃَ بِنْتَ سَہْلٍ تَزَوَّجَتْ ثَابِتَ بْنَ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ فَأَصْدَقَہَا حَدِیقَتَیْنِ لَہُ وَکَانَ بَیْنَہُمَا اخْتِلاَفٌ فَضَرَبَہَا حَتَّی بَلَغَ أَنْ کَسَرَ یَدَہَا فَجَائَ تْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْفَجْرِ فَوَقَفَتْ لَہُ حَتَّی خَرَجَ عَلَیْہَا فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ مِنْ ثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ قَالَ : وَمَنْ أَنْتِ؟ ۔ قَالَتْ حَبِیبَۃُ بِنْتُ سَہْلٍ قَالَ : مَا شَأْنُکِ تَرِبَتْ یَدَاکِ؟ ۔ قَالَتْ ضَرَبَنِی۔ فَدَعَا النَّبِیُّ -ﷺ- ثَابِتَ بْنَ قَیْسِ فَذَکَرَ ثَابِتٌ مَا بَیْنَہُمَا فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : مَاذَا أَعْطَیْتَہَا؟ ۔ قَالَ قِطْعَتَیْنِ مِنْ نَخْلٍ أَوْ حَدِیقَتَیْنِ قَالَ : فَہَلْ لَکَ أَنْ تَأْخُذَ بَعْضَ مَالِکَ وَتَتْرُکَ لَہَا بَعْضَہُ؟ ۔ قَالَ : ہَلْ یَصْلُحُ ذَلِکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : نَعَمْ ۔ فَأَخَذَ إِحْدَاہُمَا فَفَارَقَہَا ثُمَّ تَزَوَّجَہَا أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعْدَ ذَلِکَ فَخَرَجَ بِہَا إِلَی الشَّامِ فَتُوُفِّیَتْ ہُنَالِکَ۔ [ضعیف]
(١٤٨٥٧) عمرہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتی ہیں کہ حبیبہ بنت سہل نے ثابت بن قیس بن شماس سے شادی کی تو انھوں نے دو باغ حق مہر میں دیے۔ ان کے درمیان اختلاف تھا جس کی بنا پر ثابت نے مار کر حبیبہ کا ہاتھ توڑ ڈالا۔ وہ فجر کے وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازے پر آئی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر سے نکلے تو کہنے لگی : یہ مقامِ پناہ ہے۔ ثابت بن قیس سے۔ فرمایا : تو کون ہے ؟ کہتی ہیں : حبیبہ بنت سہل۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں کیا معاملہ ہے ؟ کہتی ہیں : اس نے مجھے مارا ہے، ثابت بن قیس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلایا تو ثابت نے آپس کا معاملہ ذکر کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تو نے اسے کیا دیا ہے ؟ تو ثابت نے کہا : دو باغ کھجور کے یا دو باغ ہی کہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کچھ مال لے لو اور کچھ چھوڑ دو ۔ تو کہنے لگے : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا یہ درست ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔ تو اس نے ایک باغ لے لیا اور ایک چھوڑ دیا۔ اس کے بعد اس سے ابی بن کعب نے شادی کی جو شام گئے تو وہاں فوت ہوگئے۔