(۱۴۸۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَۃَ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ جَدِّہِ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی رَجُلٍ قَالَ لاِمْرَأَتِہِ : إِذَا جَائَ رَمَضَانُ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلاَثًا وَبَیْنَہُ وَبَیْنَ رَمَضَانَ سِتَّۃُ أَشْہُرٍ فَنَدِمَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : یُطَلِّقُ وَاحِدَۃً فَتَنْقَضِی عِدَّتُہَا قَبْلَ أَنْ یَجِیئَ رَمَضَانُ فَإِذَا مَضَی خَطَبَہَا إِنْ شَائَ ۔
وَرُوِّینَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ أَنَّہُ قَالَ فِیمَنْ قَالَ لاِمْرَأَتِہِ : إِنْ کَلَّمَ أَخَاہُ فَامْرَأَتُہُ طَالِقٌ ثَلاَثًا فَإِنْ شَائَ طَلَّقَہَا وَاحِدَۃً ثُمَّ تَرَکَہَا حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا فَإِذَا بَانَتْ کَلَّمَ أَخَاہُ ثُمَّ یَتَزَوَّجُہَا بَعْدُ إِنْ شَائَ۔ [ضعیف]
(١٤٨٦٨) حضرت مقسم عبداللہ بن عباس (رض) سے ایک شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی سے کہا : جب رمضان آگیا تو تجھے تین طلاقیں اور رمضان کی آمد میں ابھی چھ ماہ باقی تھے وہ پریشان ہوا تو حضرت عباس (رض) نے فرمایا کہ وہ اپنی بیوی کو رمضان آنے سے پہلے ایک طلاق دے دے اور اس کی عدت گزر جائے اور رمضان گزر جانے کے بعد اگر چاہے تو نکاح کرلے۔
(ب) حضرت حسن بصری (رح) اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنی عورت سے کہا : اگر اس نے اپنی بھائی سے بات کی تو اس کو تین طلاقیں۔ اگر وہ چاہے تو اپنی بیوی کو ایک طاق دے کر چھوڑ دے حتیٰ کہ اس کی عدت گزر جائے اور جب بھائی سے بات کرلینا واضح ہوجائے تو اس کے بعد چاہے تو اپنی بیوی سے نکاح کرلے۔