hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 14895

.

سنن البيهقي

14895
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۸۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ حَدَّثَنِی ابْنُ الْہَادِ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی الْحَکَمِ : أَنَّ ابْنَ أَخِیہِ خَطَبَ ابْنَۃَ عَمٍّ لَہُ فَتَشَاجَرَا فِی بَعْضِ الأَمْرِ فَقَالَ الْفَتَی : ہِیَ طَالِقٌ إِنْ نَکَحْتُہَا حَتَّی آکُلَ الْغَضِیضَ وَالْغَضِیضُ : طَلْعُ النَّخْلِ الذَّکَرِ ثُمَّ نَدِمُوا عَلَی مَا کَانَ مِنَ الأَمْرِ فَقَالَ الْمُنْذِرُ : أَنَا آَتِیکُمْ مِنْ ذَلِکَ بِالْبَیَانِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ إِلَی سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ فَقُلْتُ لَہُ : إِنَّ رَجُلاً مِنْ أَہْلِی خَطَبَ ابْنَۃَ عَمٍّ لَہُ فَشَجَرَ بَیْنَہُمْ بَعْضُ الأَمْرِ فَقَالَ : ہِیَ طَالِقٌ إِنْ نَکَحْتُہَا حَتَّی آکُلَ الْغَضِیضَ۔ قَالَ ابْنُ الْمُسَیَّبِ : لَیْسَ عَلَیْہِ شَیْء ٌ طَلَّقَ مَا لاَ یَمْلِکُ۔ ثُمَّ إِنِّی سَأَلْتُ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِ شَیْء ٌ طَلَّقَ مَا لاَ یَمْلِکُ۔ ثُمَّ سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِ شَیْء ٌ طَلَّقَ مَا لاَ یَمْلِکُ۔ ثُمَّ سَأَلْتُ أَبَا بَکْرِ بْنَ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ: لَیْسَ عَلَیْہِ شَیْئٌ طَلَّقَ مَا لَمْ یَمْلِکْ۔ ثُمَّ سَأَلْتُ عُبَیْدَ اللَّہِ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِ شَیْء ٌ طَلَّقَ مَا لاَ یَمْلِکُ۔ ثُمَّ سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ فَقَالَ : ہَلْ سَأَلْتَ أَحَدًا قَالَ قُلْتُ : نَعَمْ فَسَمَّاہُمْ قَالَ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَی الْقَوْمِ فَأَخْبَرْتُہُمْ بِمَا سَأَلْتُ عَنْہُ۔ [ضعیف]
(١٤٨٨٩) منذر بن علی بن ابی حکم نے کہا کہ اس کے بھتیجے نے اس کے چچا کی بیٹی کو نکاح کا پیغام دیا۔ ان کا آپس میں جھگڑا ہوگیا تو نوجوان نے کہا : اگر میں نے اس سے نکاح کرلیا تو اسے طلاق ہے، یہاں تک کہ میں کھجور کے تر پھل کھا لوں۔ پھر اپنے کیے پر شرمندہ ہوا تو منذر کہنے لگے : میں تمہیں اس بارے میں بیان کروں گا۔ منذر کہتے ہیں : میں سعید بن مسیب کے پاس گیا۔ میں نے کہا : ہمارے ایک شخص نے اپنی چچا کی بیٹی کو نکاح کا پیغام دیا ہے تو کسی معاملہ پر ان کا جھگڑا ہوگیا۔ اس جوان نے کہہ دیا : اگر میں نے اس سے نکاح کرلیا تو اسے طلاق ہے تو ابن مسیب فرمانے لگے : اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ اس نے طلاق اس کو دی جو اس کی بیوی نہ تھی۔
(ب) جس نے عروہ بن زبیر سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا : اس پر کچھ نہیں، اس نے طلاق اسے دی جس کا وہ مالک نہ تھا۔
(ج) پھر میں نے ابو سلمہ بنع بدالرحمن سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا : اس کے ذمہ کچھ نہیں، اس نے طلاق اسے دی جس کا وہ مالک نہ تھا۔
(د) پھر میں نے ابوبکر بن عبدالرحمن سے پوچھا تو انھوں نے کہا : اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں کیونکہ اس نے طلاق اسے دی جس کا وہ مالک نہیں تھا۔
(ذ پھر میں نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے پوچھا تو وہ فرماتے ہیں : اس کے ذمہ کچھ نہیں اس نے طلاق اسے دی جس کا وہ مالک نہ تھا۔
(ر) پھر میں نے عمر بن عبدالعزیز سے پوچھا تو فرمانے لگے : تو نے کسی سے پوچھا ہے ؟ تو میں نے ان کے نام لیے۔ پھر واپس آکر میں نے لوگوں کو بتادیا۔