(۱۴۹۳۹) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ رُزَیْقٍ أَنَّ عَطَائً الْخُرَاسَانِیَّ حَدَّثَہُ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ : أَنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ تَطْلِیقَۃً وَہِیَ حَائِضٌ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یُتْبِعَہَا تَطْلِیقَتَیْنِ أُخْرَاوَیْنِ عِنْدَ الْقُرْئَیْنِ الْبَاقِیَیْنِ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا ابْنَ عُمَرَ مَا ہَکَذَا أَمَرَکَ اللَّہُ إِنَّکَ قَدْ أَخْطَأْتَ السُّنَّۃَ وَالسُّنَّۃُ أَنْ تَسْتَقْبِلَ الطُّہْرَ فَتُطَلِّقَ لِکُلِّ قُرْئٍ ۔ قَالَ : فَأَمَرَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَرَاجَعْتُہَا ثُمَّ قَالَ : إِذَا طَہَرَتْ فَطَلِّقْ عِنْدَ ذَلِکَ أَوْ أَمْسِکْ ۔ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَفَرَأَیْتَ لَوْ أَنِّی طَلَّقْتُہَا ثَلاَثًا کَانَ یَحِلُّ لِی أَنْ أُرَاجِعَہَا؟ قَالَ : کَانَتْ تَبِینُ مِنْکَ وَتَکُونُ مَعْصِیَۃً ۔
ہَذِہِ الزِّیَادَاتُ الَّتِی أُتِیَ بِہَا عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ لَیْسَتْ فِی رِوَایَۃِ غَیْرِہِ وَقَدْ تَکَلَّمُوا فِیہِ وَیُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ قَوْلُہُ وَتَکُونُ مَعْصِیَۃً رَاجِعًا إِلَی إِیقَاعِ مَا کَانَ یُوقِعُہُ مِنَ الطَّلاَقِ الثَّلاَثِ فِی حَال الْحَیْضِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔[صحیح]
(١٤٩٣٩) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں ایک طلاق دے دی پھر باقی دو طلاقیں دو حیضوں میں دینے کا ارادہ کیا، بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچی تو آپ نے فرمایا : اللہ نے تجھے اس طرح حکم نہیں دیا تو نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے۔ سنت طریقہ یہ ہے کہ تو ایک طہر میں طلاق دے۔ فرماتے ہیں : مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجوع کا حکم دیا اور فرمایا : جب وہ پاک ہوجائے تو طلاق دو یا روک لو۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں نے اس کو تین طلاقیں دے دیں تو کیا میرے لیے رجوع کرنا جائز ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ آپ سے جدا ہوجائے گی اور یہ نافرمانی ہے۔
یہ زیادتی عطاء خراسانی کی روایت میں آتی ہے، کسی دوسرے کی روایت میں نہیں اور انھوں نے اس بارے میں کلام بھی کیا ہے اور اس کا قول اس کے مشابہ ہے کہ جس طرح حالت حیض میں دی گئی طلاق سے رجوع ہے تو اس طرح ایک ہی مرتبہ دی جانے والی تین طلاقیں بھی ہوجاتی ہیں۔