hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 14944

.

سنن البيهقي

14944
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۹۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُبَیْدٍ : الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ زَنْجُوَیْہِ حَدَّثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَمَّادٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ ذُکِرَ عِنْدَہُ أَنَّ الطَّلاَقَ الثَّلاَثَ بِمَرَّۃٍ مَکْرُوہٌ فَقَالَ : طَلَّقَ حَفْصُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْمُغِیرَۃِ فَاطِمَۃَ بِنْتَ قَیْسٍ بِکَلِمَۃٍ وَاحِدَۃٍ ثَلاَثًا فَلَمْ یَبْلُغْنَا أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- عَابَ ذَلِکَ عَلَیْہِ وَطَلَّقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا فَلَمْ یَعِبْ ذَلِکَ عَلَیْہِ أَحَدٌ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ۔ وَاحْتَجَّ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی ذَلِکَ أَیْضًا بِمَا رَوَاہُ بِإِسْنَادِہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فِیمَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا لاَ یَنْکِحُہَا حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ قَالَ : وَمَا عَابَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَلاَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ عَلَیْہِ أَنْ یُطَلِّقَ ثَلاَثًا وَلَمْ یَقُلْ لَہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو بِئْسَ مَا صَنَعْتَ حِینَ طَلَّقْتَ ثَلاَثًا۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَتِلْکَ الآثَارُ تَرِدُ بَعْدَ ہَذَا إِنْ شَائَ اللَّہُ۔ [ضعیف]
(١٤٩٣٨) سلمہ ابن ابی سلمہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ذکر ہوا کہ تین طلاقیں ایک ہی مرتبہ دینا مکروہ ہے۔ فرماتے ہیں : حفص بن عمرو بن مغیرہ نے فاطمہ بنت قیس کو ایک ہی مرتبہ تین طلاقیں دیں ہمیں معلوم نہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر عیب لگایا ہو اور حضرت عبدالرحمن بن عوف نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو کسی نے ان پر اعتراض نہیں کیا۔
نوٹ : حضرت عبداللہ بن عباس، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں : جس نے اپنی بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دیں تو وہ دوبارہ اتنی دیر نکاح نہیں کرسکتا، جب تک دوسرا اس سے نکاح کر کے طلاق نہ دے۔ راوی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ (رض) نے اکٹھے تین طلاقیں دینے پر اعتراض نہیں کیا اور حضرت عبداللہ بن عمرو نے نہیں فرمایا کہ تم نے تین طلاقیں دے کر برا کام کیا ہے۔