hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 14947

.

سنن البيهقي

14947
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۹۴۱) قَالَ الْبُخَارِیُّ وَزَادَ فِیہِ غَیْرُہُ عَنِ اللَّیْثِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَوْ طَلَّقْتُ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- أَمَرَنِی بِہَذَا۔ أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا مِلْحَانُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ قَالَ : وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِکَ قَالَ لأَحَدِہِمْ : أَمَّا أَنْتَ لَوْ طَلَّقْتَ امْرَأَتَکَ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَنِی بِہَذَا وَإِنْ کُنْتَ طَلَّقْتَہَا ثَلاَثًا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَیْکَ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَکَ وَعَصَیْتَ اللَّہَ فِیمَا أَمَرَکَ بِہِ مِنْ طَلاَقِ امْرَأَتِکَ یَعْنِی وَاللَّہُ أَعْلَمُ لاَ رَجْعَۃَ فِی الثَّلاَثِ وَإِنَّمَا الرَّجْعَۃُ فِی الْمَرَّۃِ وَالْمَرَّتَیْنِ یَعْنِی فِی التَّطْلِیقَۃِ وَالتَّطْلِیقَتَیْنِ۔ وَقَوْلُہُ وَعَصَیْتَ اللَّہَ فِیمَا أَمَرَکَ مِنْ طَلاَقِ امْرَأَتِکَ یَعْنِی حِینَ طَلَّقْتَہَا فِی حَالِ الْحَیْضِ فَیَکُونُ قَوْلُہُ ہَذَا رَاجِعًا إِلَی أَصْلِ الْمَسْأَلَۃِ وَأَمَّا التَّفْصِیلُ فَإِنَّہُ لأَجْلِ إِثْبَاتِ الرَّجْعَۃِ وَقَطْعِہَا لاَ لِتَعْلِیقِ الْمَعْصِیَۃِ بِأَحَدِہِمَا دُونَ الآخَرِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَأَمَّا قَوْلُہُ فِی رِوَایَۃِ نَافِعٍ ثُمَّ یُمْسِکَہَا حَتَّی تَطْہُرَ ثُمَّ تَحِیضَ عِنْدَہُ حَیْضَۃً أُخْرَی ثُمَّ یُمْہِلَہَا حَتَّی تَطْہُرَ مِنْ حَیْضَتِہَا فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِیُّ : یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ إِنَّمَا أَرَادَ بِذَلِکَ الاِسْتِبْرَائِ أَنْ یَکُونَ یَسْتَبْرِئُہَا بَعْدَ الْحَیْضَۃِ الَّتِی طَلَّقَہَا فِیہَا بِطُہْرٍ تَامٍّ ثُمَّ حَیْضٍ تَامٍّ لِیَکُونَ تَطْلِیقُہَا وَہِیَ تَعْلَمُ عِدَّتَہَا الْحَمْلُ ہِیَ أَمِ الْحَیْضُ وَلِیَکُونَ یُطَلِّقُ بَعْدَ عِلْمِہِ بِحَمْلٍ وَہُوَ غَیْرُ جَاہِلٍ بِمَا صَنَعَ أَوْ یَرْغَبُ فَیُمْسِکُ لِلْحَمْلِ وَلِیَکُونَ إِنْ کَانَتْ سَأَلَتِ الطَّلاَقَ غَیْرَ حَامِلٍ أَنْ تَکُفَّ عَنْہُ حَامِلاً ثُمَّ سَاقَ کَلاَمَہُ إِلَی أَنْ قَالَ مَعَ أَنَّ غَیْرَ نَافِعٍ إِنَّمَا رَوَی عَنِ ابْنِ عُمَرَ حَتَّی تَطْہُرَ مِنَ الْحَیْضَۃِ الَّتِی طَلَّقَہَا فِیہَا ثُمَّ إِنْ شَائَ أَمْسَکَہَا وَإِنْ شَائَ طَلَّقَ۔ رَوَاہُ یُونُسُ بْنُ جُبَیْرٍ وَأَنَسُ بْنُ سِیرِینَ وَسَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَغَیْرُہُ خِلاَفَ رِوَایَۃِ نَافِعٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ : الرِّوَایَۃُ فِی ذَلِکَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ مُخْتَلِفَۃٌ فَأَمَّا عَنْ غَیْرِہِ فَعَلَی مَا قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ۔ [صحیح]
(١٤٩٤١) نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : اگر میں ایک یا دو مرتبہ طلاق دے دیتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی کا حکم دیتے۔
(ب) نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی۔ اس نے حدیث کو ذکر کیا ہے اور حضرت عبداللہ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو وہ فرماتے : اگر میں اپنی بیوی کو ایک یا دو مرتبہ طلاق دے دیتا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے یہی حکم دیتے اگر آپ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنے سے پہلے آپ پر حرام ہے اور آپ نے اللہ کے اس حکم کی نافرمانی کی جو اس نے عورتوں کو طلاق دینے کے بارے میں کیا ہے، یعنی تین طلاقوں کے بعد رجوع نہیں ہے اور رجوع صرف ایک یا دو طلاقوں کے بعد ہوتا ہے۔
وقولہ : وَعَصَیْتَ اللَّہَ فِیمَا أَمَرَکَ مِنْ طَلاَقِ امْرَأَتِکَ یعنی جب آپ نے حالتِ حیض میں طلاق دی تو بات اصل مسئلہ کی طرف لوٹے گی کہ رجوع کیا جائے یا نہیں، اس کا تعلق نافرمانی سے نہیں ہے۔
نافع کی روایت : ثُمَّ یُمْسِکَہَا حَتَّی تَطْہُرَ ثُمَّ تَحِیضَ عِنْدَہُ حَیْضَۃً أُخْرَی ثُمَّ یُمْہِلَہَا حَتَّی تَطْہُرَ مِنْ حَیْضَتِہَا امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ احتمال ہے کہ اس سے استبراء رحم مراد ہو جو ایک طہر اور مکمل حیض سے مراد لیا جا رہا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس کی عدت وضع حمل یا حیض مقرر کی جائے یا تو حمل کا معلوم ہونے کے بعد طلاق دے یا حمل کے لیے روک لے۔ اگر اس عورت نے بغیر حمل کے طلاق کا مطالبہ کردیا تو حمل ہونے تک آپ رک جائیں۔ ابن عمر (رض) سے منقول ہے کہ جس حیض میں طلاق دی وہ اس سے پاک ہوجائے تو پھر طلاق دے یا روک لے۔