(۱۴۹۵۱) وَرُوِیَ نُزُولُ الآیَۃِ فِیہِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثُمَّ ارْتَجَعَہَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا کَانَ ذَلِکَ لَہُ وَإِنْ طَلَّقَہَا أَلْفَ مَرَّۃٍ فَعَمَدَ رَجُلٌ إِلَی امْرَأَۃٍ لَہُ فَطَلَّقَہَا ثُمَّ أَمْہَلَہَا حَتَّی إِذَا شَارَفَتِ انْقِضَائَ عِدَّتِہَا ارْتَجَعَہَا ثُمَّ طَلَّقَہَا وَقَالَ : وَاللَّہِ لاَ أُؤْوِیکِ إِلَیَّ وَلاَ تَحِلِّینَ أَبَدًا فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی {الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ} فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ الطَّلاَقَ جَدِیدًا مِنْ یَوْمِئِذٍ مَنْ کَانَ مِنْہُمْ طَلَّقَ أَوْ لَمْ یُطَلِّقْ۔
ہَذَا مُرْسَلٌ وَہُوَ الصَّحِیحُ قَالَہُ الْبُخَارِیُّ وَغَیْرُہُ۔ [صحیح]
(١٤٩٥١) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ مرد اپنی بیوی کو طلاق دیتا پھر عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کرلیتا تو یہ اسی کی ہوتی، اگرچہ ہزار طلاقیں بھی دے دے تو ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ کیا، پھر مہلت دی، جب عدت ختم ہونے کے قریب ہوئی تو رجوع کر کے پھر طلاق دے دی اور اس نے کہا : نہ تو اپنے پاس رکھوں گا اور نہ ہی تجھے چھوڑوں گا تو اللہ رب العزت نے فرمایا :{ اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْتَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانٍ } [البقرۃ ٢٢٩] تو لوگوں نے اس دن سے نئے سر سے طلاق دینا شروع کی جس نے طلاق دی تھی یا نہ دی تھی۔