(۱۴۹۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْجُنَیْدِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ حُمَیْدِ بْنِ کَاسِبٍ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ شَبِیبٍ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ الرَّجُلُ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ مَا شَائَ أَنْ یُطَلِّقَہَا وَإِنْ طَلَّقَہَا مِائَۃً أَوْ أَکْثَرَ إِذَا ارْتَجَعَہَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا حَتَّی قَالَ الرَّجُلُ لاِمْرَأَتَہِ : وَاللَّہِ لاَ أُطَلِّقُکِ فَتَبِینِی مِنِّی وَلاَ أُؤْوِیکِ إِلَیَّ قَالَتْ : وَکَیْفَ ذَاکَ؟ قَالَ : أُطَلِّقُکِ فَکُلَّمَا ہَمَّتْ عِدَّتُکِ أَنْ تَنْقَضِیَ ارْتَجَعْتُکِ ثُمَّ أُطَلِّقُکِ وَأَفْعَلُ ہَکَذَا فَشَکَتِ الْمَرْأَۃُ ذَلِکَ إِلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَذَکَرَتْ عَائِشَۃُ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَسَکَتَ فَلَمْ یَقُلْ شَیْئًا حَتَّی نَزَلَ الْقُرْآنُ {الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ} فَاسْتَأْنَفَ النَّاسُ الطَّلاَقَ مَنْ شَائَ طَلَّقَ وَمَنْ شَائَ لَمْ یُطَلِّقْ۔ وَرَوَاہُ أَیْضًا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ وَالْحُمَیْدِیُّ عَنْ یَعْلَی بْنِ شَبِیبٍ وَکَذَلِکَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ بِمَعْنَاہُ۔ [حسن]
(١٤٩٥٠) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ مرد اپنی عورت کو جب چاہتا طلاق دے دیتا، اگرچہ سویا اس سے زیادہ ہوتیں۔ جب عدت گزرنے سے پہلے بیوی کو واپس لاتا تو اپنی بیوی سے کہہ دیتا : نہ تو طلاق دے کر تجھے اپنے سے دور کروں گا اور نہ ہی اپنے پاس جگہ دوں گا۔ اس عورت نے کہا : وہ کیسے ؟ کہتا : میں تجھے طلاق دوں گا جب تیری عدت ختم ہونے کے قریب ہوگی، پھر میں تجھ سے رجوع کرلوں گا پھر میں تجھے طلاق دوں گا اور اس طرح کرتا رہوں گا۔ عورت نے عائشہ (رض) کے پاس شکایت کی تو حضرت عائشہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ذکر کیا، آپ خاموش ہوگئے، کچھ نہیں فرمایا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی : { اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْتَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانٍ } [البقرۃ ٢٢٩] تو لوگوں نے نئے سر سے طلاق دینا شروع کی جو چاہے طلاق دے دے جو چاہے طلاق نہ دے۔