(۱۴۹۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَیَّۃَ الطَّرْسُوسِیُّ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ رُزَیْقٍ أَنَّ عَطَائً الْخُرَاسَانِیَّ حَدَّثَہُمْ عَنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ : أَنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ تَطْلِیقَۃً وَہِیَ حَائِضٌ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یُتْبِعَہَا بِتَطْلِیقَتَیْنِ أُخْرَاوَیْنِ عِنْدَ الْقَرْئَیْنِ الْبَاقِیَیْنِ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا ابْنَ عُمَرَ مَا ہَکَذَا أَمَرَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی إِنَّکَ قَدْ أَخْطَأْتَ السُّنَّۃَ وَالسُّنَّۃُ أَنْ تَسْتَقْبِلَ الطُّہْرَ فَتُطَلِّقَ لِکُلِّ قَرْئٍ ۔ قَالَ : فَأَمَرَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَرَاجَعْتُہَا ثُمَّ قَالَ لِی : إِذَا ہِیَ طَہَرَتْ فَطَلِّقْ عِنْدَ ذَلِکَ أَوْ أَمْسِکْ ۔ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَفَرَأَیْتَ لَوْ أَنِّی طَلَّقْتُہَا ثَلاَثًا کَانَ یَحِلُّ لِی أَنْ أُرَاجِعَہَا؟ قَالَ : لاَ کَانَتْ تَبِینُ مِنْکَ وَتَکُونُ مَعْصِیَۃً۔ [صحیح]
(١٤٩٥٥) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی اور باقی دو طلاقوں کو دینے کا بھی ارادہ کرلیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پتہ چلا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابن عمر ! کیا اس طرح اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے ؟ آپ نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے اور سنت طریقہ یہ ہے کہ آپ ہر طہر میں طلاق دیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ آپ نے مجھے رجوع کرنے کا حکم دیا، پھر مجھے کہا : جب یہ پاک ہوجائے تو اس وقت طلاق دے دینا یا روک لینا، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کا کیا خیال ہے کہ میں اس کو تین طلاقیں دے دوں، کیا میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں اس سے رجوع کرلوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں وہ تجھ سے جدا ہوجائے گی اور تو نے نافرمانی کی ہے۔