(۱۴۹۶۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ قَعْنَبٍ وَابْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مَالِکٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِیَاسِ بْنِ الْبُکَیْرِ قَالَ : طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا ثُمَّ بَدَا لَہُ أَنْ یَنْکِحَہَا فَجَائَ یَسْتَفْتِی فَذَہَبْتُ مَعَہُ أَسْأَلُ لَہُ فَسَأَلَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ وَعَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ عَنْ ذَلِکَ فَقَالاَ : لاَ نَرَی أَنْ تَنْکِحَہَا حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَکَ قَالَ : إِنَّمَا کَانَ طَلاَقِی إِیَّاہَا وَاحِدَۃً فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّکَ أَرْسَلْتَ مِنْ یَدِکَ مَا کَانَ لَکَ مِنْ فَضْلٍ۔ [صحیح]
(١٤٩٦٥) محمد بن ایاس بن بکیر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ پھر بعد میں اسی عورت سے نکاح کا ارادہ بنایا تو فتویٰ پوچھنے کے لیے آیا، محمد بن عبدالرحمن بن سحبان کہتے ہیں کہ میں بھی اس کے ساتھ گیا کہ میں اس کے لیے مسئلہ پوچھوں تو اس نے ابوہریرہ اور عبداللہ بن عباس (رض) سے اس بارے میں سوال کیا تو ان دونوں نے فرمایا کہ تو اس عورت سے نکاح نہ کر یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلے۔ اس نے کہا کہ میری جانب سے صرف اس کو ایک طلاق تھی تو ابن عباس (رض) فرمانے لگے کہ آپ نے اپنے ہاتھ سے جو زائد ہے بھیجی ہے۔