(۱۴۹۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ بُکَیْرٍ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الأَشَجِّ أَخْبَرَہُ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی عَیَّاشٍ الأَنْصَارِیِّ أَنَّہُ کَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ وَعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ قَالَ فَجَائَ ہُمَا مُحَمَّدُ بْنُ إِیَاسِ بْنِ الْبُکَیْرِ فَقَالَ : إِنَّ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا فَمَاذَا تَرَیَانِ؟ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَیْرِ : إِنَّ ہَذَا لأَمْرٌ مَا لَنَا فِیہِ قَوْلٌ اذْہَبْ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ فَإِنِّی تَرَکْتُہُمَا عِنْدَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَسَلْہُمَا ثُمَّ ائْتِنَا فَأَخْبِرْنَا فَذَہَبَ فَسَأَلَہُمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لأَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَفْتِہِ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ فَقَدْ جَائَ تْکَ مُعْضِلَۃٌ فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : الْوَاحِدَۃُ تُبِینُہَا وَالثَّلاَثُ تُحَرِّمُہَا حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِکَ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٤٩٦٦) معاویہ بن ابی عیاش انصاری فرماتے ہیں کہ وہ عبداللہ بن زبیر اور عاصم بن عمر کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ان کے پاس محمد بن عباس بن بکیر آئے، اس نے کہا کہ ایک دیہاتی شخص نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ تم دونوں کا اس بارے میں کیا خیال ہے کہ ابن زبیر نے کہا کہ اس معاملہ میں ہمارا کوئی قول نہیں آپ ابوہریرہ (رض) اور ابن عباس (رض) کے پاس جائیں، میں ان دونوں کو حضرت عائشہ (رض) کے پاس چھوڑ کے آیا ہوں، ان سے جا کر سوال کرو، پھر ہمیں بھی آکر بتانا وہ گئے اور جا کر ان سے سوال کیا تو ابن عباس (رض) ابوہریرہ (رض) سے کہنے لگے : اے ابوہریرہ (رض) ! ان کو فتویٰ دو کہ آپ کے پاس مشکل معاملہ آیا ہے۔ ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک طلاق میاں بیوی کو جدا کردیتی ہے اور تین طلاقیں بیوی کو حرام کردیتی ہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے۔ ابن عباس (رض) نے بھی اسی طرح فرمایا۔