(۱۴۹۸۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ غَیْرِ وَاحِدٍ عَنْ طَاوُسٍ : أَنَّ رَجُلاً یُقَالُ لَہُ أَبُو الصَّہْبَائِ کَانَ کَثِیرَ السُّؤَالِ لاِبْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الرَّجُلَ کَانَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا جَعَلُوہَا وَاحِدَۃً عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَأَبِی بَکْرٍ وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَۃِ عُمَرَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : بَلَی کَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا جَعَلُوہَا وَاحِدَۃً عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَأَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَۃِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمَّا أَنَّ رَأَی النَّاسَ قَدْ تَتَابَعُوا فِیہَا قَالَ : أَجِیزُوہُنَّ عَلَیْہِمْ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَیُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ أَرَادَ إِذَا طَلَّقَہَا ثَلاَثًا تَتْرَی۔
رَوَی جَابِرُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا قَالَ : عُقْدَۃٌ کَانَتْ بِیَدِہِ أَرْسَلَہَا جَمِیعًا وَإِذَا کَانَتْ تَتْرَی فَلَیْسَ بِشَیْئٍ ۔
قَالَ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ تَتْرَی یَعْنِی أَنْتِ طَالِقٌ أَنْتِ طَالِقٌ أَنْتِ طَالِقٌ فَإِنَّہَا تَبِینُ بِالأُولَی وَالثِّنْتَانِ لَیْسَتَا بِشَیْء
وَرُوِیَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا دَلَّ عَلَی ذَلِکَ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۱۴۹۸۲]
(١٤٩٨٥) طاؤس فرماتے ہیں کہ ابو صہباء نامی شخص حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے بہت زیادہ سوال کیا کرتا تھا۔ اس نے کہا : کیا آپ جانتے نہیں کہ جب کوئی شخص اپنی عورت کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دیتا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کی خلافت کے ابتدا میں اسے ایک شمار کیا جاتا تھا تو ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : کیوں نہیں۔ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دیتا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کی خلافت کے ابتدائی دور میں اسے ایک ہی شمار کیا جاتا تھا۔ جب حضرت عمر (رض) نے دیکھا کہ انھوں نے مسلسل طلاقیں دینا شروع کردیں ہیں تو انھوں نے تینوں کو ہی جاری کردیا۔
شیخ فرماتے ہیں : جب وہ تین طلاقیں مسلسل دینے کا قصد کرلے۔
(ب) شعبی ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایسا شخص جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دخول سے قبل دے دیں۔ فرماتے ہیں : اگر وہ چاہے تو تینوں ہی اکٹھی دے دے۔
حضرت سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں : تتری کا معنی ہے کہ تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے۔ وہ ایک سے ہی جدا ہوگئی اور باقی دو کچھ بھی نہیں ہیں۔