(۱۴۹۸۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدُ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی حَاتِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَۃَ یَقُولُ : مَعْنَی ہَذَا الْحَدِیثِ عِنْدِی أَنَّ مَا تُطَلِّقُونَ أَنْتُمْ ثَلاَثًا کَانُوا یُطَلِّقُونَ وَاحِدَۃً فِی زَمَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا
وَذَہَبَ أَبُو یَحْیَی السَّاجِیُّ إِلَی أَنَّ مَعْنَاہُ إِذَا قَالَ لِلْبِکْرِ : أَنْتِ طَالِقٌ أَنْتِ طَالِقٌ أَنْتِ طَالِقٌ کَانَتْ وَاحِدَۃً فَغَلَّظَ عَلَیْہِمْ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَجَعَلَہَا ثَلاَثًا۔
قَالَ الشَّیْخُ وَرِوَایَۃُ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ تَدُلُّ عَلَی صِحَّۃِ ہَذَا التَّأْوِیلِ۔ [صحیح]
(١٤٩٨٤) ابو زرعہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جو تم آج تین طلاقیں دیتے ہو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کے دور میں وہ ایک طلاق دیتے تھے۔
(ب) ابویحییٰ اساجی فرماتے ہیں کہ جب وہ کنواری سے کہے : تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق تو ایک طلاق ہوگئی، تو حضرت عمر (رض) نے سختی کرتے ہوئے اس کو تین ہی شمار کردیا۔