(۱۵۰۲۵) أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَبُو بَکْرٍ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ أَنَّ عُمَرَ وَابْنَ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا کَانَا یَقُولاَنِ : إِذَا خَیَّرَہَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَہَا فَہِیَ وَاحِدَۃٌ وَہُوَ أَحَقُّ بِہَا وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَہَا فَلاَ شَیْئَ ۔ [صحیح]
(١٥٠٢٥) ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اور ابن مسعود (رض) دونوں فرماتے ہیں کہ جب خاوند بیوی کو اختیار دے اور بیوی نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا تو یہ ایک طلاق ہے اور آدمی بیوی کا زیادہ حق دار ہے۔ اگر بیوی نے خاوند کو اختیار کرلیا تو اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں۔