(۱۵۰۲۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِذَا خَیَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ فَاخْتَارَتْ زَوْجَہَا فَہِیَ تَطْلِیقَۃٌ وَہُوَ أَمْلَکُ بِرَجْعَتِہَا وَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَہَا فَتَطْلِیقَۃٌ بَائِنَۃٌ وَہُوَ خَاطِبٌ مِنَ الْخُطَّابِ۔
قَالَ وَکَانَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَہَا فَہِیَ ثَلاَثٌ۔
قَالَ وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : إِذَا خَیَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ فَاخْتَارَتْ زَوْجَہَا فَلَیْسَ بِشَیْئٍ وَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَہَا فَہِیَ تَطْلِیقَۃٌ وَہُوَ أَمْلَکُ بِرَجْعَتِہَا۔ (ق) قَوْلُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُوَافِقٌ لِقَوْلِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الْخِیَارِ وَبِہِ نَقُولُ لِمُوَافَقَتِہِ السُّنَّۃَ الثَّابِتَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی التَّخْیِیرِ وَمُوَافَقَتِہِ مَعْنَی السُّنَّۃِ الْمَشْہُورَۃِ عَنْ رُکَانَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الْبَتَّۃِ : أَنَّہَا رَجْعِیَّۃٌ إِذَا أَرَادَ بِہَا وَاحِدَۃً وَأَمَّا عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَدِ اخْتَلَفَتِ الرِّوَایَۃُ عَنْہُ فِی ذَلِکَ فَأَشْہَرُہَا مَا رُوِّینَا وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو حَسَّانَ الأَعْرَجُ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [صحیح]
(١٥٠٢٩) عامر حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کو اختیار دے اور اس نے اپنے خاوند کو اختیار کرلیا تو یہ ایک طلاق ہے اور خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ اگر عورت نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا تو وہ ایک طلاق سے جدا ہوجائے گی اور وہ شخص نکاح کا پیغام دینے والوں میں سے ہوگا۔
(ب) زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں : اگر بیوی نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا تو یہ تین طلاقیں ہیں۔
(ج) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : جب آدمی اپنی بیوی کو اختیار دے اور بیوی اپنے خاوند کو اختیار کرے تو اس کے ذمہ کچھ نہیں۔ اگر بیوی نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا تو یہ ایک طلاق ہے اور آدمی رجوع کرنے کا مالک ہے تو حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کا قول اختیار میں حضرت عمر (رض) کے قول کے موافق ہے اور یہی ہم کہتے ہیں، جو حضرت عائشہ (رض) سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اختیار کے بارے میں منقول ہے اور جو حدیث رکانہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تین طلاقوں کے بارے میں ہے کہ جب وہ ایک کا ارادہ کرے گا تو یہ طلاق رجعی ہوگی۔